کرپشن ایک ایسا ناسور ہے جو اداروں کی بنیادوں کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ جب بدعنوانی کسی محکمے میں جڑ پکڑ لے تو پھر صرف خزانے کو نقصان نہیں پہنچتا بلکہ عوام کا اعتماد، ریاستی اداروں کی ساکھ اور قانون کی بالادستی بھی مجروح ہوتی ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے کرپشن، بدعنوانی اور نااہلی کے خلاف حالیہ کارروائی اسی تناظر میں ایک اہم قدم ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر سول ڈیفنس پنجاب میں 12 اہلکاروں کو ملازمت سے برخاست، 37 افسران و اہلکاروں کو معطل جبکہ 7 افسران کے تبادلے کیے گئے ہیں۔ ڈائریکٹر سول ڈیفنس پنجاب کی جانب سے ہونے والی یہ کارروائی بظاہر محکمے کے اندر خود احتسابی کی ایک مثال ہے، جس کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ سرکاری منصب کسی کو قانون سے بالاتر نہیں کرتا۔
یہ بات بھی قابلِ تحسین ہے کہ مختلف عہدوں پر فائز افسران اور ملازمین کو احتساب کے دائرے میں لایا گیا ہے۔ معطلی کے ساتھ پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز اور متعلقہ افسران و اہلکاروں کو ہیڈکوارٹر رپورٹ کرنے کی ہدایت اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ معاملے کو محض انتظامی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے باقاعدہ محکمانہ احتساب کی طرف لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔لیکن یہاں ایک سوال ضرور جنم لیتا ہے۔اگر آج اچانک ہر ادارے سے کرپشن کے خلاف کارروائیاں سامنے آ رہی ہیں، اہلکار معطل ہو رہے ہیں اور افسران کے خلاف تحقیقات شروع ہو رہی ہیں تو کیا یہ سب کچھ آج ہی شروع ہوا ہے؟یقیناً نہیں۔کرپشن راتوں رات پیدا نہیں ہوتی۔ یہ ایک ایسے پودے کی مانند ہے جو خاموشی سے پروان چڑھتا ہے۔ ابتدا میں شاید ایک معمولی سی بے ضابطگی نظر آتی ہے، پھر اس پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، اس کے بعد مصلحت اسے برداشت کرنا سکھاتی ہے اور بالآخر وہی چھوٹی سی بے قاعدگی پورے نظام کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
اگر کسی ادارے میں برسوں تک بدعنوانی جاری رہی، اگر شکایات موجود تھیں، اگر اختیارات کا غلط استعمال ہوتا رہا اور اگر قانون کی خلاف ورزیاں نظر انداز کی جاتی رہیں تو سوال صرف اس اہلکار سے نہیں ہونا چاہیے جس پر آج ہاتھ ڈالا گیا ہے۔سوال ان لوگوں سے بھی ہونا چاہیے جن کی نگرانی میں یہ سب کچھ ہوتا رہا۔احتساب کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ کمزور اور طاقتور میں فرق نہ کرے۔ اگر ایک نچلے درجے کا ملازم کرپشن پر سزا پاتا ہے تو اس افسر سے بھی سوال ہونا چاہیے جس کی نگرانی میں وہ کام کر رہا تھا۔ اگر ایک اہلکار قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ اسے ایسا کرنے کا موقع کس نے دیا، کس نے نظرانداز کیا اور کس نے برسوں تک آنکھیں بند رکھیں۔کرپشن کے خلاف جنگ صرف چند ملازمین کو نوکری سے نکال دینے سے نہیں جیتی جا سکتی۔ اس کے لیے پورے نظام کا احتساب ضروری ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر محکمے کا ایک مکمل انتظامی نظام ہوتا ہے۔ اگر نظام میں نگرانی کا مؤثر طریقہ موجود ہو، شکایات پر بروقت کارروائی ہو، ریکارڈ شفاف ہو، اختیارات کی تقسیم واضح ہو اور احتساب بلاامتیاز ہو تو بدعنوانی کے لیے جگہ کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے۔پنجاب حکومت کا یہ اقدام اس لحاظ سے خوش آئند ہے کہ کم از کم یہ پیغام تو واضح طور پر سامنے آیا ہے کہ کرپشن، نااہلی، بدانتظامی اور قوانین کی خلاف ورزی کو معمول سمجھ کر برداشت نہیں کیا جائے گا۔لیکن اصل امتحان کارروائی کے اعلان کے بعد شروع ہوتا ہے۔کیا یہ احتساب مستقل جاری رہے گا؟کیا صرف چند محکموں تک محدود رہنے کے بجائے پورے سرکاری نظام میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا؟کیا بااثر افسران اور طاقتور عہدوں پر بیٹھے افراد بھی اسی پیمانے پر احتساب کا سامنا کریں گے؟اور سب سے اہم سوال یہ کہ کیا آج پکڑے جانے والے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا بھی تعین ہوگا جن کی غفلت، سرپرستی یا خاموشی نے بدعنوانی کو پروان چڑھنے کا موقع دیا؟یہ سوال اس لیے اہم ہے کیونکہ کرپشن کی جڑ ہمیشہ نچلی سطح پر نہیں ہوتی۔ بعض اوقات نیچے نظر آنے والی بدعنوانی دراصل اوپر موجود کمزور نگرانی، ناقص نظام یا خاموش سرپرستی کا نتیجہ ہوتی ہے۔
اس لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے کرپشن کے خلاف سخت کارروائی کو سراہتے ہوئے یہ توقع بھی کی جانی چاہیے کہ احتساب کا سفر نچلی سطح پر رکنے کے بجائے اوپر تک جائے گا۔ جس طرح ریاستی ملازم سے دیانت داری کی توقع کی جاتی ہے، اسی طرح اعلیٰ افسر سے بھی جواب دہی، شفافیت اور ذمہ داری کا تقاضا ہونا چاہیے۔کیونکہ قومیں صرف سڑکیں، پل اور عمارتیں بنانے سے مضبوط نہیں ہوتیں، قومیں اس وقت مضبوط ہوتی ہیں جب ان کے اداروں میں قانون کی حکمرانی، میرٹ، دیانت اور احتساب زندہ ہو۔کرپشن کے خلاف کارروائی خوش آئند ہے، مگر مستقل مزاجی اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔
آج اگر ایک دروازہ بدعنوانی کے لیے بند کیا گیا ہے تو کل دوسرا دروازہ کھلنے نہیں دینا چاہیے۔ احتساب ریاستی نظام کا مستقل حصہ بننا چاہیے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اس اقدام کو یقیناً سراہا جانا چاہیے، مگر ساتھ ہی یہ آواز بھی بلند ہونی چاہیے کہ احتساب صرف نیچے سے شروع نہ ہو، بلکہ اس کی نگاہ اوپر تک بھی پہنچے۔کیونکہ جب احتساب صرف کمزور تک پہنچتا ہے تو خوف پیدا ہوتا ہے،اور جب احتساب بلاامتیاز اوپر سے نیچے تک پہنچتا ہے تو نظام میں اصلاح پیدا ہوتی ہے۔پنجاب کو ایسے ہی بلاامتیاز اور مسلسل احتساب کی ضرورت ہے، جہاں سرکاری کرسی عوام کی خدمت اور جواب دہی کی ذمہ داری سمجھی جائے۔کرپشن کا خاتمہ چند روز کی کاروئیوں سے کبھی بھی نہیں ہوگا، مگر ایک مضبوط اور بے لاگ احتسابی عمل یقیناً اس سفر کی پہلی مضبوط سیڑھی بن سکتا ہے،اس کو جاری و ساری رہنا چاہئے
