این سی آئی اے کی جانب سے صحافی بلال غوری کے خلاف متنازع ٹویٹ مقدمہ، اسلام آباد کی مقامی عدالت نے صحافی بلال غوری کا تین دن کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
دوران سماعت بلال غوری کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پانچ ستمبر کو ویلاگ اپ لوڈ ہوا ہے ، کوئی نوٹس نہیں دیا گیا ڈائریکٹ ہی گرفتار کر لیا گیا ،یہ پورا پروگرام یوٹیوب پر موجود ہے ،ایک لفظ بھی ایسا نہیں ہے کہ کہ جو غلط ہو جھوٹ بولا گیا ہو ،جھوٹی معلومات بلال غوری کے ویلاگ میں کہاں ہے این سی آئی اے یہ بتا دے ، بلال غوری نے وہ نوٹیفکیشن پڑھا ہے جو جاری کیا گیا ہے ، صرف یہ بات بری لگ گئی کہ ان کی مزید ترقی ممکن نظر نہیں آتی یہ کونسا جھوٹ ہے ؟ دوران سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان نے صحافی بلال غوری سے مکالمہ کیا کہ جو الفاظ آپ نے استعمال کیے کیا وہ آپ کو مناسب لگتے ہیں ؟ اس پر بلال غوری نے کہا کہ ادارے کی کارکردگی کے بارے میں بات ہو رہی تھی ،میں نے فیصل نصیر کے خلاف نہیں نیکٹا کے بارے میں بات کر رہا ہوں ،
عدالت نے استفسار کیا کہ آخر میں کیا کہا ہے آپ نے ؟ اس پر صحافی نے کہا کہ میں نے یہی کہا کہ جو فیلڈ مارشل کہیں گے وہ وہی کریں گے ، اس پر جج نے کہا کہ کیا آپ کل میرے حوالے سے بھی یہ کہیں گے ؟ جو سیشن جج کہے گا وہ کریں گے ، اس پر بلال غوری نے کہا کہ عدلیہ تو آزاد ہے
