اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے گھریلو ملازمین پر ظلم، تشدد اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف کرمنل لاء ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس چیئرمین فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت ہوا، جس میں سینیٹر سرمد علی نے کرمنل لاء ترمیمی بل 2026 پیش کیا۔سینیٹر سرمد علی نے کہا کہ گھریلو ملازمین کو اکثر تنخواہیں ادا نہیں کی جاتیں جبکہ انہیں تشدد اور دیگر مظالم کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بل کے تحت گھریلو ملازمین پر ظلم کرنے والوں پر جرمانہ عائد کرنے کی تجویز ہے، کم از کم جرمانے کی سزا بھی ظلم کی روک تھام کے لیے خوف اور رکاوٹ کا باعث بنے گی۔چیئرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ اسی نوعیت کا قانون اسلام آباد میں پہلے سے موجود ہے، اس لیے پہلے سے نافذ قوانین اور مجوزہ بل کا تقابلی چارٹ آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہر کہانی کے دو رخ ہوتے ہیں، اگر گھریلو ملازمین کی شکایت پر فوری جرمانے ہونے لگے تو مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کی پوش آبادیوں میں ایک مافیا بھی موجود ہے جو پولیس کو دو، دو ہزار روپے دے کر مالکان کے خلاف مقدمات درج کراتا ہے۔ طلال چوہدری نے کہا کہ یہ سینیٹر سرمد علی کے ساتھ زیادتی ہے کہ خواتین سے متعلق تمام بل منظور کرلیے گئے جبکہ ان کے بل کو مؤخر کرنے کی بات کی جارہی ہے۔اس موقع پر سینیٹر ثمینہ زہری نے کہا کہ مافیا کون ہے اور کون نہیں، اس کی شناخت کرنا حکومت اور متعلقہ اداروں کا کام ہے۔ انہوں نے بلوچستان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بعض مالکان نے ملازمین کے پورے خاندان کو کنویں میں الٹا لٹکادیا تھا۔
ثمینہ زہری نے کہا کہ اگر ظلم کرنے والوں کے خلاف کارروائی نہ ہو تو ملک میں کسی کا کچھ نہیں بگڑے گا اور کوئی کسی کا احتساب نہیں کرسکے گا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بل کے معاملے پر صوبوں سے بھی رائے لے لی جاتی ہے، تاہم اس پر بات آگے بڑھی تو مزید اداروں اور فریقین سے رائے لینے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔سینیٹر سرمد علی نے بل پر ووٹنگ کرانے کا مطالبہ کیا، جس کے بعد کمیٹی نے کرمنل لاء ترمیمی بل 2026 متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
