Baaghi TV

کتاب موج سخن ،تبصرہ نگار: عرفان خانی

اک عرصہ سے ادبی دنیا علم عروض کے سمندر میں غوطہ زن ہے مگر کوئی بھی ایسا پائے گا عروضیہ منظر عام پر نہیں ایا جس نے علم عروض کو آسان زبان میں کتابی شکل دی ہو ۔ امراءالقیس سے تین سو برس بعد خلیل بن احمد الفراہیدی ۔ اخفش تک اور ڈاکٹر زبید احمد کے بقول الصنعانی پہلے ہندوستانی تھے جنھوں نے اس موضوع پر کتاب تصنیف فرمائی ( ایم زیڈ کنول ) نجم الغنی رامپوری ” بحر الفصاحت اور بہت ساری زمانہ حاضر میں کتب شائع ہوئیں ہر ایک نے اپنے اپنے مجموعہ میں استادیاں جھاڑیں کسی نے نئی بحر ایجاد کرنے کا دعوی ٹھونسا کسی نے چھ جلدیں کسی نے ایک ہزار صفحات کالے کیے ہر کوئی اپنا ہی رونا روتا رہا بحور تو وہی تھیں جو بار بار نقل کی گئیں مگر ان بحور کو اسان ترین طریقہ سے قاری کو سمجھانے کی کوشش نہیں کی جس کی وجہ سے قاری کتاب خرید کر بھی اس علم کے بارے کچھ نہ جان سکا اسے اس علم کو جاننے کے واسطے استاد کے منت ترلے کرنے پڑے جس کے سبب استاد کی فرمائشیں بھی شاگردوں کو پوری کرنی پڑیں خیر یہ اک خاصی طویل گفتگو ہے ہم چلتے ہیں اج علم عروض کی اس کتاب پر گفتگو کرنے جس کتاب کا نام ”موج سخن “ہے

یہ کتاب ماہر علم عروض ممتاز شاعر نقاد ادیب جناب نسیم شیخ کی ہے جنکا تعلق کراچی سے ہے میں نے علم عروض پر مشتمل کئی کتب کا مطالعہ کیا ہر کتاب اپنی افادیت کے حوالہ سے مستند تھی مگر اس قدر سلیس زبان میں نہ تھی اور استادیوں سے بھری پڑھی تھی جس کی وجہ سے عام قاری یا اوزان جاننے کے لئے اک شاعر کو اسانی میسر نہ تھی ،اس دور میں ” موج سخن “ نے یہ کمال کر دیا کہ زاتی استادی سے پاک اور اسان زبان میں انتھک محنت کے بعد نسیم شیخ نے اس مجموعہ کو اس قابل بنا دیا کہ مجھے بھی یہ کہنا پڑا کہ حاضر زمانہ میں” موج سخن“ علم عروض پر مشتمل وہ کتاب ہے جس کا عرصہ دراز سے ادبی دنیا کو انتظار تھا ۔

موج سخن ہر لحاظ سے بہترین کتاب ہے اس کتاب میں بحور کو ترتیب سے اور زحاف کو انہی بحور کے ساتھ روشناس کروایا گیا ہے
شعر کی ساخت ۔ شعر کے محاسن زبان کی املا
طریقہ تقطیع ۔ بے حد اسان طریقہ سے قاری تک پہنچائی گئی ہے ۔
اس کتاب میں تنقید کے اصول ۔ شعر کی جدت ۔ جدیدئیت ۔
ماہ بعد جدیدئیت پر بھی خوب راہنمائی کا اسان طریقہ سے موضوع کھینچا گیا ہے ۔
اس کتاب میں ۔۔ قافیہ کے اسلو ب پر تفصیل سے مضمون لکھا گیا ہے جو کہ اس کتاب کا انمول جوہر ہے ۔
نظم ۔ رباعی ۔غزل حتکہ اصناف فنون لطیفہ کو الگ الگ اسباق میں انتہائی ماہرانہ نقادانہ طاقت کو بروے کار لاتے ہوئے قاری تک پہنچایا گیا ہے
میں سمجھتا ہوں ” موج سخن “ نئے لکھنے والوں اور بہت سینئرز کے لئے بھی فائدہ مند ہے جو اس کا مطالعہ کرنے بعد علم عروض کو با اسانی اپنے کلام کو درست کرنے کے لئے استعمال میں لا سکتے ۔ علم عروض پر مشتمل یہ کتاب اس سے پہلے انے والی تمام کتب سے اسان اور بہترین کتاب ہے اپ احباب بھی اس کا مطا لعہ کرنا نہ بھولئے گا ۔۔
جناب نسیم شیخ صاحب کو ادب کی اس بے لوث خدمت اور حاضر زمانہ میں بہترین علم عروض پر کتاب لانے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور رب العزت سے دعا گو ہوں کہ ان کے علم میں مزید اضافہ فرمائے امین

More posts