باورچی خانہ اور میرا رشتہ جیسے سوتن کا ہوتا ہے۔ مجھے اس کا سارا کام آتا ہے، مگر پھر بھی جب کچن میں داخل ہوتی ہوں تو لگتا ہے جیسے کسی دفتر میں حاضری لگانے آئی ہوں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں تنخواہ کے بجائے تعریف ملتی ہے، وہ بھی کبھی کبھار!
صبح کچن میں قدم رکھتے ہی چولہا، برتن، ایسے مجھے گھورنے لگتے ہیں جیسے رات بھر میٹنگ کر کے میرا انتظار کر رہے ہوں۔
میں چائے بناتی ہوں تو سب سے پہلے سوال آتا ہے، اچھی بنانا، مطلب میں ایک کلو دودھ کی دو کپ کیسے بناؤں، جیسے میری بہن ایک کلو کی چائے صرف اور صرف تین کپ بناتی ہے-
چائے بن جائے تو، پھر یہ آواز آتی ہے ناشتہ کب بنے گا؟
ناشتہ بنا کر ابھی فارغ ہوتی ہوں تو ادھر اماں بیگم کہتی ہیں دوپہر کے کھانے میں کیا بنے گا؟
میں سوچتی ہوں؟
یہ گھر ہے یا چوبیس گھنٹے کھلا ہوا ہوٹل؟
روٹی بناتے ہوئے میری کوشش ہوتی ہے کہ ہر روٹی گول ہو، مگر کبھی کبھی ایک آدھ روٹی نقشہ پاکستان بن جاتی ہے، پتا ہے کبھی کبھی کبھار میری روٹی کا رخ مشرق ،کبھی مغرب تو کبھی کراچی تو کبھی لاہور کی جانب ہوتا ہے-
میں اسے دیکھ کر کہتی ہوں چلو آج محب وطنی روٹی کھائیں گے سب، ہاہاہا
اصل امتحان تب ہوتا ہے جب میرا چھوٹا بھائی مطلب مجھ سے بڑے ہیں پوچھے
آج کھانے میں کیا ہے
میں کہتی ہوں
آپ کی ناپسندیدہ کھانا کہیں۔
مطلب برتھا جو ان کو بے حد پسند ہے
یہ کچھ بھی سن کر میرا دماغ ایسے گھومتا ہے جیسے بلینڈر میں چٹنی بن رہی ہو۔
آخر میں میں وہی بناتی ہوں جو مجھے پسند ہو۔
اور کھانے کے بعد سب کہتے ہیں-واہ! بہت مزے کا بنا ہے۔
سوائے میرے والد محترم کے علاوہ سب تعریف کی پل باندھ دیتے ہیں –
میں مسکرا کر کہتی ہوں کل بھی یہی بنے گا۔
اچانک سب کے چہرے ایسے اتر جاتے ہیں جیسے کسی نے خوشی کی خبر واپس لے لی ہو۔تب مجھے سمجھ آتا ہے کہ باورچی خانہ چلانا آسان ہے، مگر گھر والوں کی پسند چلانا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے!
اور میرا کچن سے آخری سوال ہمیشہ یہی ہوتا ہے
کیا آج برتن خود دھو لو گے؟
کچن خاموش رہتا ہے…
کیونکہ اسے بھی پتا ہے کہ کل پھر میں ہی آنے والی ہوں-برتنوں کو مجھ سے ایسی محبت ہے ،میں رات کو دھو کر تقریباً ١٢بجےتک فارغ ہوتی ہوں، پھر صبح فجر سے پہلے سینک ماشاء اللہ سے بھرا ہوتا ہے مطلب ،رات کو جن جنات اور چریلیں آتی ہیں- میرے سارے ارمان دھرے کے دھرے کے رہے جاتے ہیں جو میں سوچتی ہوں صبح کام کم ہوگا، میں موبائل استعمال کروں گی، میرے سارے ارمان آنسو بھی بہے گئے،
باورچی خانہ اور میں،تحریر :نیہا علی
