اسلام آباد کے سیکٹر ایف 10 میں کشمیر کے حوالے سے احتجاج کے خلاف درج مقدمے میں انسداد دہشتگردی عدالت نے سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت تمام 96 ملزمان کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستیں منظور کرلیں۔
انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے کیس کی سماعت کی، جس دوران عدالت نے سینیٹر مشتاق احمد خان، رضی طاہر اور دیگر تمام ملزمان کو 5،5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق 31 جولائی کو اسلام آباد کے سیکٹر ایف 10 میں آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا تھا، جس کے بعد تھانہ شالیمار میں ملزمان کے خلاف دہشتگردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ مقدمے میں کشمیری طلبا سمیت احتجاج میں شریک بڑی تعداد میں افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔
سماعت کے دوران سرکاری وکیل راجا نوید حسین کیانی عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ ملزمان کی جانب سے جے کے چیمبر اسلام آباد سے منسلک وکلا نے مقدمے کی پیروی کی۔ سینیٹر مشتاق احمد خان کی جانب سے وکیل عمران شفیق عدالت میں پیش ہوئے۔
دورانِ سماعت جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سینیٹر مشتاق احمد خان کے وکیل عمران شفیق سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کا انتظار کررہے تھے اور انہیں آئندہ دیر سے عدالت آنے سے گریز کرنا چاہیے۔
عدالت نے سماعت کے بعد سینیٹر مشتاق احمد خان، رضی طاہر اور دیگر ملزمان کی ضمانتیں منظور کرلیں اور تمام 96 ملزمان کو مقررہ مچلکے جمع کرانے کے بعد رہا کرنے کا حکم دیا۔
تھانہ شالیمار میں درج ایف آئی آر کے مطابق ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے احتجاج کے دوران اشتعال انگیز تقاریر کیں اور نعرے لگائے، سڑک بلاک کی، مبینہ طور پر دکانیں زبردستی بند کرائیں، میڈیا، سرکاری اور نجی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا، جبکہ پولیس اہلکاروں کی وردیاں پھاڑنے اور ہیلمٹ چھیننے کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔
عدالت کی جانب سے ضمانت منظور ہونے کے بعد کیس میں گرفتار تمام 96 ملزمان کی رہائی کی راہ ہموار ہوگئی ہے، تاہم مقدمے میں عائد الزامات کا فیصلہ ٹرائل کے دوران شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر ہوگا۔
