عقیدہ ختم نبوت ہمارا ایمان ہے۔جو لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے بارے میں غلط عقائد رکھتے ہیں جیسے کہ قادیانی زندیق کافر ہیں۔ قادیانی مسلمان بن کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔
ایمان لوٹتے ہیں، نوکری اور لڑکی کا لالچ دے کر ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ معاذ اللہ، اللّٰہ تعالیٰ کی توہین کرتے ہیں اور معاذ اللہ نبی محمد ﷺ کی بھی توہین کرتے ہیں اور قرآن مجید کی توہین کرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں ، ہم بھی نماز پڑھتے ہیں ، ہم بھی قرآن پڑھتے ہیں ۔ ہم بھی روزہ رکھتے ہیں ، زندیق کافر کو قتل کرنے کا حکم ہے۔ ایسے لوگوں سے خود بھی بچنا چاہیے اور ان کے خلاف جدوجہد ہمارے ایمان کا حصہ ہونی چاہیے۔!
سیرت النبی محمد ﷺ کی اہمیت وافادیت اسلامی عقیدہ کے مطابق عمارت کی بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے پہلے کم وبیش سوا لاکھ انبیاء کرام علیہم السلام دنیا میں تشریف لائے ۔ دائرہ اسلام میں رہنے کے لیے ان تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا ضروری ہے اور
اللہ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کی رہنمائی و فلاح کے لیے قرآنِ مجید نازل فرمایا۔ قرآن مجید سراپا ہدایت، رحمت اور نصیحت ہے جو کائنات کی سب سے مقتدر اور معزز ہستی، ہمارے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل ہوا۔ آپ ﷺ کی زندگی صرف ایک پیغام نہیں، بلکہ قرآنِ پاک کا عملی اور جیتا جاگتا نمونہ ہے۔
ہمارے پیارے نبی ﷺ نے جب مکہ کی سرزمین پر تبلیغِ اسلام کا آغاز کیا، تو آپ ﷺ نے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اپنے بدترین دشمنوں کو بھی کسی تلوار یا طاقت سے نہیں، بلکہ اپنے بے مثال عمل اور اعلیٰ اخلاق سے مات دی۔ آپ ﷺ نے زندگی بھر کبھی کسی سے تلخ کلامی نہیں کی، بلکہ ہمیشہ نرم مزاجی، صبر اور محبت کا مظاہرہ فرمایا۔ آپ ﷺ بچوں سے بے پناہ محبت، شفقت اور نرمی سے پیش آتے تھے اور دشمنوں کی تہمتوں اور ظلم و ستم کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے اپنے عمل سے انہیں انسانیت کا سبق سکھاتے تھے۔
تاریخ کے اوراق آپ ﷺ کے حسنِ سلوک کی داستانوں سے بھرے پڑے ہیں۔ سیرتِ پاک ﷺ کا ایک خوبصورت واقعہ ہے کہ ایک سفر کے دوران ایک بوڑھی عورت اپنے سامان کی بھاری گٹھری اٹھائے چل رہی تھی۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ نے آگے بڑھ کر اس بزرگ خاتون کی مدد کی اور پورے راستے اس کا بوجھ اپنے مبارک کندھوں پر اٹھائے سفر طے کیا۔ وہ بڑھیا راستے بھر آپ ﷺ کو (نعوذ باللہ) جادوگر اور ساحر کہتی رہی اور طرح طرح کی تہمتیں لگاتی رہی، لیکن رحمتِ عالم ﷺ خاموشی سے سنتے رہے اور مسکراتے رہے۔ جب منزل پر پہنچ کر اس نے آپ ﷺ کا نام پوچھا اور آپ ﷺ نے فرمایا کہ "میں ہی محمد ہوں”، تو وہ بڑھیا شرمندگی کے سمندر میں ڈوب گئی اور کہنے لگی کہ "جو انسان راستے بھر میرا بوجھ اٹھاتا رہا، وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا”۔ آپ ﷺ کے اسی اخلاق نے اس کے دل کی کایا پلٹ دی اور وہ فوراً دائرہ اسلام میں داخل ہو گئی۔
اسی طرح مکہ ہی کی ایک اور عورت روزانہ آپ ﷺ کے اوپر کچرا پھینکا کرتی تھی، لیکن جب ایک دن اس نے کچرا نہیں پھینکا تو آپ ﷺ نے کسی سے اس کی خیریت دریافت فرمائی۔ پتہ چلا کہ وہ سخت بیمار ہے، تو آپ ﷺ فوراً اس کے گھر عیادت اور تیمارداری کے لیے تشریف لے گئے۔ مکہ کا کوئی کافر اس کا حال پوچھنے نہ آیا، مگر وہ ذاتِ اقدس آگئی جسے وہ ستایا کرتی تھی۔ وہ عورت اس اعلیٰ ظرفی پر تڑپ اٹھی اور شرمندہ ہو کر مسلمان ہو گئی۔
دشمنوں کے ظلم کا یہ عالم تھا کہ جب آپ ﷺ صحنِ کعبہ میں حالتِ نماز میں ہوتے، تو سجدے کے دوران آپ ﷺ کی پشتِ مبارک پر اونٹ کی تعفن زدہ اور بھاری اوجھڑی رکھ دی جاتی۔ کافروں نے نماز پڑھتے وقت آپ ﷺ کے گلے مبارک میں چادر کا پھندا ڈال کر اس بے دردی سے کھینچا کہ آپ ﷺ کا دم گھٹنے لگا۔ لیکن قربان جائیں اس رحمتِ مجسم ﷺ پر، جنہوں نے ان بدبخت دشمنوں کے لیے بھی ہمیشہ ہدایت کی دعا کی اور کبھی بددعا نہیں دی۔ وہ شفیق نبی ﷺ جو اپنی زندگی کے آخری لمحات میں بھی، جب وفات کا وقت قریب تھا، سسکیاں لیتے ہوئے "امتی، امتی” (میری امت، میری امت) پکارتے رہے اور دنیا سے جاتے جاتے بھی اپنی امت کی نجات کی فکر کرتے رہے۔
آج اگر ہم اپنے مسلم معاشرے کا جائزہ لیں، تو ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے آپ ﷺ کے ان خوبصورت اسباق کو صرف کتابوں اور تقریروں تک محدود کر دیا ہے۔ ہمارے دعوے تو محبتِ رسول ﷺ کے ہیں، لیکن ہماری عملی زندگی، ہماری تجارت، ہمارا اکلِ حلال اور ہمارے اخلاق آپ ﷺ کی تعلیمات کا عکس پیش نہیں کرتے۔ ہم فرقوں، زبانوں اور ذاتی مفادات میں بٹ کر آپ ﷺ کے دیے ہوئے اخوت کے درس کو بھول چکے ہیں۔
آج دنیا اور آخرت میں کامیابی کا واحد طریقہ اور نجات کا ذریعہ نبی کریم ﷺ کی سنتوں کی کامل پیروی میں ہے۔ لیکن آج ہمیں دیانت داری سے اپنے گریبانوں میں جھانک کر یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے کہ: "کیا ہم نبی کریم محمد ﷺ کے امتی ہونے کا حق ادا کر رہے ہیں؟”
اگر ہم واقعی آپ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، تو ہمیں زبانی دعووں سے نکل کر آپ ﷺ کے بتائے ہوئے راستے، سچائی، امانت داری، عفو و درگزر اور نرم مزاجی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا، کیونکہ اسی میں امت کی بقا اور کامیابی پوشیدہ ہے۔
انبیاء علیہ السلام کی تعظیم وتکریم ضرور ی ہے۔
قرآن مجید نے جہاں اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیت
فرشتوں پر ایمان ، قیامت پر ایمان کو جزو قرار دیا ہے۔وہاں سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوت ورسالت پر ایمان جزو قرار دیا ہے ، لیکن پورے قرآن مجید میں ایک جگہ بھی یہ نہیں فرمایا کہ حضور ﷺ کے بعد کسی نئے نبی وحی یا نبوت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ نبوت ورسالت حضور محمد ﷺ کے دنیا میں تشریف لانے کے بعد منقطع ہو چکی ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ نے اس کا تذکرہ عالم ارواح، عالم دنیا، عالم برزخ ،عالم آخرت میں کیا ہے ۔
جب قبر میں فرشتہ مردے سے سوال کرے گا ۔
پہلا سوال ہے کہ تیرا رب کون ہے؟
جواب میں مردہ کہے گا میرا رب اللہ ہے۔
دوسرا سوال تمہارا دین کیا ہے ؟
جواب میرا دین اسلام ہے۔
تیسرا سوال تمہارا نبی کون ہے ؟
جواب میرا نبی محمد ﷺ ہے۔
فرشتہ مردے سے کہے گا ۔ تو نے سچ کہا۔
