بالی ووڈ فلموں میں کام کرنے والی مراکشی نژاد کینیڈین اداکارہ نورا فتحی کے ’کھلونا جہاز‘ سے متعلق تبصرے انہیں قانونی مشکل میں لے آئے، ایک ایوی ایشن کمپنی نے اداکارہ کے خلاف 3 کروڑ بھارتی روپے ہرجانے اور ہتکِ عزت کا دعویٰ دائر کردیا۔
گاندھی نگر کی عدالت میں دائر درخواست میں کمپنی نے مؤقف اختیار کیا کہ نورا فتحی نے گزشتہ سال دسمبر میں ممبئی سے جے پور سفر کے دوران چارٹرڈ طیارے کی ویڈیوز بنا کر انہیں اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر شیئر کیا۔ اداکارہ نے طیارے کو مبینہ طور پر چھوٹا کھلونا اور ’لیگو ایئرپلین‘ قرار دیا تھا۔کمپنی کا کہنا ہے کہ نورا فتحی کے یہ تبصرے غیر ذمہ دارانہ اور لاپرواہی پر مبنی تھے، جن کا کوئی تکنیکی یا حقائق پر مبنی جواز موجود نہیں تھا۔ کمپنی کے مطابق اداکارہ کے لاکھوں سوشل میڈیا فالوورز ہیں، جس کے باعث ان کے تبصروں سے کمپنی کی ساکھ اور کاروباری سرگرمیوں کو نقصان پہنچا۔درخواست گزار کمپنی نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے بعد متعدد بکنگز منسوخ ہوئیں جبکہ اس کی بکنگز میں 15 سے 20 فیصد کمی واقع ہوئی اور منسوخیوں میں بھی اضافہ ہوا۔کمپنی نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ طیارہ معمول کے مطابق مسافروں کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن سے مکمل طور پر تصدیق شدہ اور قابلِ پرواز تھا، جبکہ اسے مقررہ حفاظتی ضوابط کے تحت آپریٹ کیا جا رہا تھا۔
کمپنی نے 3 کروڑ بھارتی روپے ہرجانے کے علاوہ عدالت سے درخواست کی ہے کہ نورا فتحی کی جانب سے طیارے سے متعلق کیے گئے تمام مبینہ توہین آمیز بیانات اور ان سے متعلق مواد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے ہٹانے کا حکم دیا جائے، جبکہ اداکارہ کو عوامی وضاحت جاری کرنے کا بھی پابند کیا جائے۔
