دنیا کے تیز رفتار ارتقا نے جہاں ٹیکنالوجی کو ہر فرد کی پہنچ میں لا کھڑا کیا ہے، وہیں یہ ارتقا ہماری معاشرتی اور اخلاقی اقدار پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ یوٹیوب کی ایجاد نے (جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک سنگِ میل تھا) جہاں… دنیا کے رجحان کو بدلا، وہیں اس بدلتے ہوئے رجحان نے معلومات، تفریح اور علمی و ادبی شخصیات کے ساتھ گھر بیٹھے بٹھائے رابطہ اور ان سے استفادہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ ہماری معاشرتی اور اخلاقی اقدار کو بھی شدید امتحان میں ڈال دیا ہے۔ آج کل ”سوشل میڈیا“ کی دنیا میں یوٹیوب ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ہر شخص اپنی صلاحیتوں کے مظاہرے کے لیے آزاد ہے۔ لیکن اس آزادی کے ساتھ ایک ایسا رجحان بھی پنپ رہا ہے جو اخلاقی حدود کو پار کر رہا ہے۔ یوٹیوب آج ایک ایسا میدان بن چکا ہے جہاں شہرت اور پیسہ کمانے کی ہوس نے اخلاقیات کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ یوٹیوب جو ایک معلوماتی اور تفریحی پلیٹ فارم تھا، اب بہت سے نوجوانوں کے لیے شہرت، دولت اور کامیابی کا ذریعہ بن چکا ہے۔ مگر! بدقسمتی سے اس پلیٹ فارم کا استعمال بعض لوگ صرف اپنی ”ریٹنگز“ بڑھانے اور شہرت حاصل کرنے کے لیے بے حیائی اور غیر اخلاقی مواد کے فروغ کے ساتھ کر رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ بے حیائی معاشرتی اثرات کا نتیجہ ہے یا محض شہرت اور پیسہ کمانے کا ذریعہ؟
معزز قارئین!
یوٹیوب کے پاکستانی اور ”بین الاقوامی“ مواد پر نظر ڈالیں تو صاف دکھائی دیتا ہے کہ تخلیقی اور معلوماتی ویڈیوز کے بجائے، زیادہ تر وہ ویڈیوز مقبول ہو رہی ہیں جن میں اخلاقی حدود کو توڑا بل کہ روندا جا رہا ہوتا ہے۔ مخربِ اخلاق ملبوسات، غیر شائستہ زبان اور متنازع حرکات کے ذریعے لوگ اپنی ویڈیوز کو وائرل بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ! یہ مواد نہ صرف نوجوان نسل کو متاثر کر رہا ہے بل کہ، پورے معاشرے کے لیے اخلاقی و تہذیبی بگاڑ کا باعث بن رہا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے!
آج کا نوجوان، جو مستقبل کا معمار ہے؛ ان ویڈیوز کے ذریعے اپنے اخلاقی معیار کو کھو رہا ہے۔ ایسے یوٹیوبرز، جو محض لائکس اور سبسکرائبرز کے حصول کے لیے متنازع مواد تیار کر کے اسے نشر کرتے ہیں وہ معاشرے میں منفی رجحانات کو فروغ دے رہے ہیں۔ یوٹیوبرز کی بڑھتی ہوئی تعداد میں بہت سے افراد نے کامیابی کے پیمانوں کو محض ویوز، لائکس اور سبسکرائبرز تک محدود کر دیا ہے۔ اس دوڑ میں، کچھ یوٹیوبرز نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے بجائے متنازع، بے حیائی اور اخلاقی گراوٹ پر مبنی مواد کو فروغ دینا شروع کر دیا ہے۔ یوٹیوبرز کے موضوعات، طرزِ گفتگو اور پیشکش کے انداز میں وہ وقار اور احترام ”مفقود“ ہے جو کسی بھی مہذب معاشرے کا حصہ ہونا چاہیے۔ بے حیائی کے اس سیلاب نے ہماری ادبی فضا کو بھی گدلا کر دیا ہے۔ (اس کی واضح مثال اُردو ادب کے بے ادب ادیب ہیں۔) اس بڑھتی ہوئی بے حیائی کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟ آئیے دیکھتے ہیں!
* شہرت اور دولت کی ہوس۔
* مواد کا بے لگام مقابلہ۔
* معاشرتی رویے۔
* چیک اینڈ بیلنس کی کمی۔
* ناظرین کی دلچسپی۔
* یوٹیوب کا الگورتھم۔
* ثقافتی، سماجی اور تہذیبی اقدار کی گراوٹ۔
* اسمارٹ فونز اور انٹرنیٹ کی آسان دست یابی۔
* آزادی اظہار رائے کی غلط تشریح۔
* اور مغربی تہذیب و تمدن کی اندھا دھند تقلید۔
قارئین محترم!
اصل مسئلہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر مواد کا کوئی موثر کنٹرول ہی نہیں ہے۔ والدین کی غفلت، نوجوان نسل کی ناپختہ ذہنیت اور مواد تیار کرنے والوں کی غیر ذمہ داری نے مل کر ایک ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے جہاں بے حیائی نہ صرف عام ہو گئی ہے بل کہ اسے ایک ”نارمل رویے“ کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے۔
یاد رکھیے!
”یہ رویے کسی زہر سے کم نہیں۔“
ایسے ہی یوٹیوبرز کی نقل میں ہمارا معاشرہ بے راہ روی، بدتمیزی اور سطحی سوچ کا شکار ہو رہا ہے بل کہ ہو چکا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ معاشرے میں دوبارہ ادب و احترام اور تہذیب کی بحالی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ یوٹیوبرز کو اپنی سماجی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے اور ناظرین کو بھی محتاط رہنے کی تلقین کی جائے۔ میڈیا کے اس نئے دور میں ہمیں اپنی اقدار کی حفاظت کے لیے محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور یہ ممکن ہے:
”اخلاقی تربیت، قانونی اور تکنیکی اقدامات، مثبت مواد کی حمایت اور معاشرتی شعور کی بیداری“ سے۔
حاصلِ کلام یہ کہ!
ہمیں یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ وقتی شہرت کے لیے اپنی اقدار کو قربان کرنا نہ صرف غیر اخلاقی بل کہ ایک طویل مدتی نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ ہمیں یہ باور کروانا ہو گا کہ یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کا اصل مقصد: تخلیق، تعلیم اور مثبت تفریح کا فروغ تھا، لیکن اس کے غلط استعمال نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو کمزور کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم نہ صرف اس مسئلے کو سمجھیں بل کہ اپنے رویوں اور ترجیحات کے ذریعے اس کے ”تدارک“ میں کردار ادا کریں۔ ذہن نشین رہے!
”اگر ہم نے آج اقدامات نہ کیے تو ہماری آنے والی نسلیں؛ دینی، تعلیمی، تہذیبی، سماجی، سیاسی، معاشرتی؛ معیشتی، ادبی، ثقافتی اور اخلاقی بحران کا شکار ہوں گی۔“
قابل قدر قارئین!
معاشرتی اصلاح کا عمل ہم سب سے شروع ہوتا ہے۔ آئیے! اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور یوٹیوب کو ایک مثبت اور تعمیری پلیٹ فارم بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ختم شد!
