قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے اہم خبر سامنے آگئی، بیشتر سیونگ اسکیموں کی شرحِ منافع میں کمی کردی گئی ہے، جس سے فکسڈ انکم پر انحصار کرنے والے سرمایہ کاروں کی آمدن متاثر ہونے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق قومی بچت نے مختلف سیونگ اسکیموں پر منافع کی شرحوں میں رد و بدل کردیا ہے۔ زیادہ تر اسکیموں کی شرحِ منافع میں کمی کی گئی ہے، تاہم ایک سالہ شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹ کی شرح میں معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔
پنشنرز بینیفٹ اکاؤنٹ اور بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس کی شرحِ منافع میں 36 بیسس پوائنٹس کمی کے بعد اسے 12.60 فیصد کردیا گیا ہے۔ اسی طرح ریگولر انکم سرٹیفکیٹس کی شرحِ منافع بھی 36 بیسس پوائنٹس کم کرکے 11.16 فیصد مقرر کردی گئی ہے۔
اسپیشل سیونگ اکاؤنٹ کی شرحِ منافع میں 30 بیسس پوائنٹس کمی کی گئی، جس کے بعد نئی شرح 10.90 فیصد ہوگئی ہے۔ تین ماہ کے شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹس کی شرح 26 بیسس پوائنٹس کمی سے 10.86 فیصد کردی گئی، جبکہ چھ ماہ کے شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹس کی شرحِ منافع میں 28 بیسس پوائنٹس کمی کے بعد یہ بھی 10.86 فیصد ہوگئی ہے۔
دوسری جانب ایک سالہ شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹس سرمایہ کاروں کے لیے معمولی بہتری کا باعث بنے ہیں، جن کی شرحِ منافع میں 11 بیسس پوائنٹس اضافہ کیا گیا ہے۔ اضافے کے بعد ایک سالہ شارٹ ٹرم سیونگ سرٹیفکیٹس کی شرحِ منافع 11.28 فیصد ہوگئی ہے۔
قومی بچت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق نئی شرحِ منافع کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ شرحوں میں اس رد و بدل سے بالخصوص پنشنرز، فکسڈ انکم پر انحصار کرنے والے افراد اور قومی بچت کی مختلف اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی متوقع آمدن پر براہِ راست اثر پڑے گا۔
