Baaghi TV

برسی نما سالگرہ ،تحریر،عرفان اعوان

انسان وہ مخلوق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے معتبر مخلوق کا درجہ دیا نہ صرف درجہ بلکہ باقی مخلوقات سے زیادہ شعور ، عقل و دانش عطا فرمائی ہے یہ سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ انسان جو پاکستان میں بستے ہیں وہ بے زبان مخلوق ہیں ان کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود یہ بے زبان مخلوق ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کی کوئی نہ کوئی قومی زبان ہے۔ یہ واحد پاکستانی قوم ہے جسکی کوئی قومی زبان نہیں یہی وجہ ہے یہ قوم لسانی طور پر الگ الگ محاظ بنا لیتی ہے اور اپنے اپنے مورچوں سے لسانی حملے کرتے رہتی ہے جسکی وجہ سے ملک کے امن کو آئے روز خطرات کا سامنا رہتا ہے ۔

پاکستان میں مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سہر فہرست اردو زبان ہے جو تقریبا دنیا بھر میں پڑھی ، بولی لکھی ،سمجھی جاتی ہے اس کے علاؤہ۔ سندھی ، بلوچی ، پنجابی دھنی ، پوٹھوہاری ، سرائیکی ،پشتو ، براہوی ، وغیرہ شامل ہیں اگر ان زبانوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ تمام زبانیں اپنا وجود تو رکھتی ہیں لیکن انکا دائرہ اتنا وسیع نہیں ہے کہ ان کو قومی زبان کا درجہ دیا جا سکے۔ مثال کے طور پر سندھی زبان کا جائزہ لیا جائے تو یہ فنون لطیفہ ، تعلیم ، زرائع ابلاغ میں اپنے ہی صوبہ تک فروغ پائی ہے اس سے آگے اسکا دائرہ نہیں ہے اسی طرح سرائیکی۔ کا جائزہ لیا جائے تو یہ مخصو ص ایریا تک فنون لطیفہ ، زرائع ابلاغ ، تعلیم وغیرہ تک ہے اسی طرح پنجابی ہے پنجابی کا دائرہ ان زبانوں سے وسیع ہے پنجابی اس وقت پاکستان اور بیرون ممالک تک فروغ پا چکی ہے مگر ابھی پنجابی کا دائرہ بھی زرائع ابلاغ ، فنون لطیفہ سے آگے نہیں گیا باقی زبانیں بھی ادب ، یا فنون لطیفہ کی دیگر اصناف میں فروغ پا رہی ہیں تاریخی حوالہ سے ان تمام زبانوں کا اپنا الگ الگ مقام ہے مگر ہمیں یہ دیکھنا ہے یہ زبانیں کہاں کہاں بولی ، پڑھی ، سمجھی جاتی ہیں اگر تو یہ زبانیں حاضر زمانہ میں دنیا بھر میں مقبول ہیں تو ان میں سے کسی ایک کا نفاذ ہو جانا چاہے مگر ایسا نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ ان زبانوں کا نفاذ ممکن نہیں ۔ اردو کے حوالہ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اردو اس وقت مقبول زبان ہے مگر اس زبان کے نفاذ میں حکومت پاکستان کی سستی ہی کہا جائے گا اگر یہ سستی اسی طرح کچھ عرصہ اور رہی تو اردو زبان کو بھارت اپنی قومی زبان بنا لے گا جب ایسا ہو جائے گا تو پھر ہماری قومی زبان پنجابی ہی ہوگی لیکن پنجابی کے نفاذ میں بھی بہت مسائل ہیں اور جب تک پنجابی زبان کے مسائل حل نہ ہو نگے تب تک ممکن نہیں اور ان مسائل کے حل سے پہلے ہی پنجابی زبان ہم سے سکھ برادری چھین کر لے جائے گی اور ہم بے زبان ہی رہ جائیں گے حکومت پاکستان کو چاہے کہ وہ سنجیدگی سے اس پر غور کرے اور جلد از جلد اردو زبان کے نفاذ کا حکم نامہ جاری کرے

اردو زبان کے نفاذ کے عدالتی احکامات میاں محمد نواز شریف کے دور حکومت ہوئے تھے جو مورخہ آٹھ ستمبر 2015کے عدالتی فیصلہ سے منسلک ہیں جو کہ آج بھی کہیں ردی کی ٹو کری میں پڑے ہیں ہم وزیر اعظم پاکستان جناب شہباز شریف سے اردو زبان کے نفاذ کے لئے احکامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہتے کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک ہیرو میاں محمد نواز شریف ہیں جنہوں نے ایٹم بم کے دھماکے کر کے تاریخی فیصلہ پر عمل کروایا اور تاریخ میں انکا نام سنہرے باب میں بطور ھیرو ہی لکھا جائے گا دوسرا ہیرو وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف ہو سکتے ہیں اگر وہ اردو زبان کے نفاذ کے عدالتی فیصلہ کو عملی جامہ پہنائیں تو وہ بھی تاریخ میں میاں محمد نواز شریف کی طرح ہیرو بن جائیں گے اور تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ ہیرو ہی لکھا جائے گا

وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف صاحب آپ کے پاس آج وقت ہے کل شائد آپ کے پاس۔ یہ وقت نہ ہو اور آپ ہیرو بننے کی کوشش بھی کریں تو نہیں بن سکیں گے اس لئے آپ سے التماس ہے آپ آج اس وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اردو زبان کے نفاذ کا دھماکہ کر دیں اور پاکستان کی تاریخ میں آپ دونوں بھائیوں کا نام بطور ہیرو سنہرے حروف میں نمایاں رہے گا اگر آج ایسا نہ ہوا تو یہ پاکستانی قوم ہمیشہ کے لئے ،،برسی نما سال گرہ،، مناتی رہے گی اور بے زبان قوم کے نام سے جانی پہچانی جائے گی تحریک نفاذ اردو کے لئے محترمہ فاطمہ قمر اور انکی پوری ٹیم مبارک باد کی مستحق ہے کہ اپنے اردو کے نفاذ کے لئے جو کوششیں کیں ہیں وہ قابل تحسین ہیں آپ مزید اپنی کاوشوں کو اعتماد کے ساتھ آگے بڑھیں تو ہمیں امید ہے کہ پاکستانی قوم زبان والی قوم بن سکے گی وگرنہ پاکستانی قوم کا زبان کے حوالہ سے مستقبل ،، بے زبان قوم ،،اور ،، برسی نما سال گرہ ،،ہی رہ جائے گا

More posts