Baaghi TV

دنیا کے سب سے زیادہ تنخواہ لینے والے رہنما کی تنخواہ میں 10 لاکھ ڈالر سے زائد اضافہ

سنگاپور کی حکومت نے وزیر اعظم سمیت کابینہ کے دیگر وزرا اور اعلیٰ عہدیداروں کی سالانہ تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کردیا، جس کے بعد سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ کی آمدن دنیا کے دیگر سیاسی رہنماؤں کے مقابلے میں مزید بڑھ جائے گی۔

سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ پہلے ہی دنیا میں سب سے زیادہ سالانہ تنخواہ لینے والے سیاسی رہنما ہیں۔ نئی منظوری کے بعد ان کی سالانہ تنخواہ میں مزید 14 لاکھ سنگاپورین ڈالر، یعنی تقریباً 11 لاکھ امریکی ڈالر، کا اضافہ کیا جائے گا۔

لارنس وونگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ پانچ سال تک تنخواہ میں ہونے والے اس اضافے کی رقم فلاحی کاموں کے لیے عطیہ کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ باصلاحیت افراد کو سیاست کی جانب راغب کرنے کے لیے وزرا کی تنخواہوں میں اضافہ ضروری ہے۔

سنگاپور کی حکومت اس سے قبل بھی مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ وزرا اور اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کو مناسب اور مسابقتی تنخواہیں دینے سے بدعنوانی کی حوصلہ شکنی میں مدد ملتی ہے اور باصلاحیت افراد کو سرکاری ذمہ داریاں سنبھالنے کی ترغیب ملتی ہے۔

تنخواہوں میں اضافے سے قبل لارنس وونگ سالانہ 22 لاکھ سنگاپورین ڈالر وصول کررہے ہیں، جبکہ اضافے کے بعد ان کی سالانہ تنخواہ 36 لاکھ سنگاپورین ڈالر تک پہنچ جائے گی، جو تقریباً 28 لاکھ امریکی ڈالر بنتی ہے۔

دنیا کے دیگر رہنماؤں کی سالانہ تنخواہوں کا موازنہ کیا جائے تو ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی تقریباً 7 لاکھ 19 ہزار امریکی ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔ سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پرمیلین تقریباً 6 لاکھ 6 ہزار ڈالر سالانہ وصول کرتے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سالانہ تنخواہ 4 لاکھ ڈالر ہے۔

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کی سالانہ تنخواہ تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار امریکی ڈالر بتائی گئی ہے۔ اس طرح نئی تنخواہ کے اطلاق کے بعد سنگاپور کے وزیراعظم لارنس وونگ اور دیگر عالمی سیاسی رہنماؤں کی آمدن میں فرق مزید نمایاں ہوجائے گا۔

More posts