وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے پہلے 11 ماہ، جولائی 2025 سے مئی 2026 تک، آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو مجموعی طور پر 29 کھرب 35 ارب روپے کی ادائیگیاں کیں۔
وزارتِ توانائی کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کردہ تفصیلات کے مطابق آئی پی پیز کو کی جانے والی ان ادائیگیوں میں 11 کھرب 68 ارب روپے انرجی پیمنٹس جبکہ 15 کھرب 65 ارب روپے کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں ادا کیے گئے۔ وزارت کے مطابق جون 2026 کی بجلی کی حتمی بلنگ کا عمل تاحال مکمل نہیں ہوا۔
وزارتِ توانائی نے واضح کیا کہ حکومت نے آئی پی پیز کو نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے مقرر کردہ نرخوں یا بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں میں طے شدہ نرخوں سے زیادہ ادائیگیاں نہیں کیں۔
دستاویزات کے مطابق جولائی 2025 سے مئی 2026 کے دوران پن بجلی گھروں نے مجموعی طور پر 34 ہزار 234 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی، جس کے عوض 375 ارب 4 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جوہری بجلی گھروں نے 21 ہزار 31 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی اور حکومت نے ان پلانٹس کو 469 ارب 44 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کیں۔ درآمدی کوئلے سے چلنے والے پاور پلانٹس نے 12 ہزار 48 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی، جنہیں 637 ارب 91 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
آر ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس نے 16 ہزار 97 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی، جس کے عوض انہیں 527 ارب 10 کروڑ روپے کی ادائیگیاں ہوئیں۔ گیس سے چلنے والے پاور پلانٹس نے 10 ہزار 588 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی، جبکہ ان پلانٹس کو 200 ارب 84 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس نے 3 ہزار 804 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی اور انہیں 144 ارب 43 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔ سولر پاور پلانٹس سے ایک ہزار 74 گیگا واٹ آورز بجلی حاصل ہوئی، جس کے لیے حکومت نے 36 ارب 51 کروڑ روپے ادا کیے۔
اسی طرح بیگاس سے چلنے والے پاور پلانٹس نے 714 گیگا واٹ آورز بجلی پیدا کی، جنہیں 14 ارب 82 کروڑ روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔
دستاویزات کے مطابق یہ تمام اعداد و شمار مئی 2026 تک کی ادائیگیوں پر مشتمل ہیں، جبکہ جون 2026 کی حتمی بلنگ اور ادائیگیوں کا عمل ابھی مکمل ہونا باقی ہے۔
