پاکستان کی سیاست میں کچھ سوال ایسے ہیں جو کبھی مرتے نہیں، صرف وقت کے ساتھ دوبارہ زندہ ہوجاتے ہیں۔ نئے صوبوں کا سوال بھی انہی سوالات میں سے ایک ہے۔ کبھی یہ جنوبی پنجاب کے نام سے سامنے آتا ہے، کبھی ہزارہ کی آواز بن جاتا ہے، کبھی کراچی اور سندھ کی بحث کو جنم دیتا ہے اور اب ایک مرتبہ پھر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیانات نے اس بحث کو قومی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ محسن نقوی نے حالیہ دنوں میں نہ صرف نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا بلکہ یہاں تک کہا کہ عہدہ رہے یا نہ رہے وہ اس مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کے مطابق نئے انتظامی یونٹس کا فیصلہ حکومتوں یا سیاسی جماعتوں کے بجائے عوام کی رائے سے ہونا چاہیے۔
یہاں سے ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا پاکستان واقعی نئے صوبوں کے لیے تیار ہے یا ہم ایک مرتبہ پھر سیاسی، لسانی اور انتظامی تنازعات کے ایسے دروازے کھولنے جارہے ہیں جنہیں بند کرنا آسان نہیں ہوگا؟ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جغرافیہ صرف زمین کا معاملہ نہیں ہوتا، اس کے ساتھ شناخت، وسائل، زبان، نمائندگی اور اقتدار جڑے ہوتے ہیں۔ 1971 کا سانحہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب سیاسی اور انتظامی محرومی طویل ہوجائے تو نقشے کی لکیریں صرف نقشے پر نہیں رہتیں، وہ قوموں کے احساسات کا حصہ بن جاتی ہیں۔
محسن نقوی کی موجودہ دلیل کا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ نئے صوبوں کو لسانی یا نسلی بنیاد پر نہیں بلکہ انتظامی ضرورت کے طور پر دیکھنے کی بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آبادی بڑھ چکی ہے، ایک شہر میں بیٹھ کر اتنی بڑی آبادی کا مکمل انتظام ممکن نہیں اور نئے انتظامی یونٹس بہتر حکمرانی کے لیے ضروری ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد کو بھی صوبہ بنانے کی حمایت کی اور سوال اٹھایا کہ اگر نئے اضلاع اور ڈویژن بن سکتے ہیں تو نئے صوبے کیوں نہیں بن سکتے؟
یہ دلیل بظاہر مضبوط ہے، مگر اصل امتحان یہ ہے کہ کیا نیا صوبہ واقعی گورننس بہتر کرے گا؟ اگر آج لاہور سے فیصلے ہوتے ہیں اور کل نئے صوبے کا دارالحکومت بننے والے شہر سے وہی فیصلے ہوں گے، اگر بیوروکریسی کا اختیار وہی رہے گا، اگر بلدیاتی ادارے کمزور رہیں گے اور اگر وسائل کی تقسیم کا نظام تبدیل نہیں ہوگا تو صرف صوبے کا نام بدلنے سے عام آدمی کی زندگی کیسے بدلے گی؟ پاکستان کو شاید نئے صوبوں سے پہلے نئے طرزِ حکمرانی کی ضرورت ہے۔
اسی لیے محسن نقوی کی گفتگو میں میئر کا ذکر بھی اہم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مقامی سطح کی قیادت عام آدمی کے مسائل کو زیادہ بہتر سمجھ سکتی ہے اور وہ بہت سے صادق خان، ممدانی اور اردوان جیسے مقامی رہنماؤں کو سامنے آتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات دراصل نئے صوبوں کی بحث کو ایک دوسرے سوال سے جوڑ دیتی ہے: اگر ایک شہر کا میئر بااختیار ہو، اسے وسائل حاصل ہوں اور وہ اپنے شہریوں کے سامنے جواب دہ ہو تو کیا ہر مسئلے کا حل نیا صوبہ بنانا ہی رہ جاتا ہے؟
سندھ میں اس بحث کی حساسیت سب سے زیادہ ہے۔ کراچی کو بااختیار کرنے کی بات ہوتی ہے تو اسے صرف انتظامی معاملہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ صوبائی شناخت اور سیاسی طاقت کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ پنجاب میں جنوبی پنجاب کا سوال اپنی سیاسی تاریخ رکھتا ہے، جبکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مسئلہ صرف انتظامی فاصلے کا نہیں بلکہ امن، دہشت گردی، ترقی اور ریاستی رٹ کا بھی ہے۔ ایسے میں نئے صوبوں کی بحث اگر قومی اتفاقِ رائے کے بغیر آگے بڑھی تو یہ گورننس کا حل بننے کے بجائے ایک نئی سیاسی کشمکش پیدا کرسکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ محسن نقوی خود بھی کہہ رہے ہیں کہ اس معاملے کو جذباتی نہیں بنانا چاہیے اور فیصلہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریفرنڈم یا براہِ راست عوامی رائے کی بحث اہم ہوجاتی ہے۔ اگر واقعی عوام نئے انتظامی یونٹس چاہتے ہیں تو ان کی رائے معلوم کرنے میں خوف کیوں ہو؟ اور اگر عوام نہیں چاہتے تو کسی حکومت، جماعت یا شخصیت کو یہ حق کیوں حاصل ہو کہ وہ ان پر اپنی مرضی مسلط کرے؟ تاہم ایسی کسی مشق کے لیے سوال کی ساخت، آئینی طریقہ کار، ووٹرز کی حدود اور قومی اتفاقِ رائے پہلے واضح کرنا ہوگا۔
پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنے صوبے ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کتنے بااختیار مقامی ادارے ہیں۔ اگر ایک شہری کو اپنے پانی، صفائی، سڑک، ٹریفک، پارک، اسپتال اور مقامی منصوبہ بندی کے لیے صوبائی دارالحکومت کی طرف دیکھنا پڑے تو یہ گورننس کا بنیادی مسئلہ ہے۔ نئے صوبے اس فاصلے کو کم کرسکتے ہیں، مگر مضبوط میئر اور بااختیار بلدیاتی نظام اس فاصلے کو شاید اس سے بھی زیادہ تیزی سے کم کرسکتا ہے۔
محسن نقوی نے ایک ایسی بحث چھیڑ دی ہے جسے محض سیاسی بیان سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں نعرے لگانے کے بجائے ایک میز پر بیٹھیں اور طے کریں کہ پاکستان کو کتنے صوبے چاہییں، کتنے انتظامی یونٹس درکار ہیں، میئر کے پاس کتنے اختیارات ہونے چاہییں اور وسائل کی تقسیم کس بنیاد پر ہونی چاہیے۔ نئے صوبے اگر عوام کے قریب حکومت لاتے ہیں تو یہ پاکستان کی ضرورت ہیں، لیکن اگر وہ صرف نئے اقتدار کے مراکز بن جاتے ہیں تو یہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کی نئی شکل ہوں گے۔
پاکستان کو نقشے پر نئی لکیروں سے زیادہ اختیار کی نئی تقسیم کی ضرورت ہے۔ شاید آنے والے دنوں میں اصل بحث یہ نہیں ہوگی کہ پاکستان میں کتنے صوبے ہیں، بلکہ یہ ہوگی کہ پاکستان میں اقتدار آخر عوام کے کتنے قریب ہے۔
