"امریکہ اور ایران کی رسہ کشی، قیمت غریب عوام ادا کر رہی ہے”
"آبنائے ہرمز میں تناؤ، غریب ممالک پر مہنگائی کا طوفان”۔
تجزیہ شہزاد قریشی
آبنائے ہرمز محض ایک سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ ہے۔ جب بھی امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات صرف خلیج فارس تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے کروڑوں غریب اور متوسط طبقے کے گھروں تک پہنچتے ہیں۔ آج دنیا کی بڑی طاقتیں اپنے سیاسی، عسکری اور تزویراتی مفادات کی جنگ لڑ رہی ہیں، مگر اس جنگ کی سب سے بھاری قیمت ترقی پذیر ممالک کے عوام ادا کر رہے ہیں۔
تیل اور گیس کی عالمی ترسیل کا ایک بڑا حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے۔ جب اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، شپنگ اور انشورنس کے اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور عالمی سپلائی چین متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں پٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ، کھاد اور خوراک سب مہنگی ہو جاتی ہیں۔ اقوام متحدہ اور عالمی مالیاتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ ایسے بحرانوں کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر اور غریب ممالک پر پڑتا ہے، جہاں پہلے ہی مہنگائی، قرضوں اور بے روزگاری کے مسائل موجود ہیں۔
امریکہ اور ایران شاید اپنی قومی سلامتی اور علاقائی اثرورسوخ کے تناظر میں فیصلے کر رہے ہوں، لیکن انہیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کی کشمکش کا اثر پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، مصر، کینیا اور درجنوں دیگر ممالک کے عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ ایک مزدور، ایک کسان اور ایک تنخواہ دار شخص نہ واشنگٹن کی پالیسیوں میں شریک ہے اور نہ تہران کی حکمت عملی میں، مگر وہ مہنگے ایندھن، مہنگی روٹی اور مہنگی زندگی کا سامنا کر رہا ہے۔
یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ توانائی کے بحران کے اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتے۔ تیل مہنگا ہونے سے فیکٹریوں کی لاگت بڑھتی ہے، ٹرانسپورٹ مہنگی ہوتی ہے، زرعی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور بالآخر خوراک کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگتی ہیں۔ عالمی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں طویل کشیدگی ترقی پذیر ممالک میں غذائی عدم تحفظ، مالی دباؤ اور سماجی بے چینی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں طاقت کا توازن اہم ضرور ہے، لیکن انسانی زندگی اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ امریکہ اور ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کی ہر دھمکی، ہر پابندی اور ہر عسکری کارروائی کا اثر صرف ایک دوسرے پر نہیں بلکہ دنیا کے تقریباً ایک ارب ایسے لوگوں پر پڑتا ہے جو پہلے ہی غربت اور معاشی مشکلات سے دوچار ہیں۔ عالمی امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسی معاشی استحکام کا نام بھی ہے جس میں غریب آدمی دو وقت کی روٹی، سستی توانائی اور بہتر زندگی کا حق حاصل کر سکے۔
آج دنیا کو ایک نئے سفارتی بیانیے کی ضرورت ہے۔ واشنگٹن اور تہران اگر واقعی عالمی ذمہ داری کا احساس رکھتے ہیں تو انہیں مذاکرات، تحمل اور مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ کیونکہ آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی ہر نئی کشیدگی کا دھواں سب سے پہلے غریب ممالک کے چولہوں تک پہنچتا ہے، اور اس کی آگ میں سب سے زیادہ وہی لوگ جلتے ہیں جن کا اس تنازعے سے کوئی تعلق نہیں۔
