پیر محل میں آئے روز بڑھتے ہوئے ٹریفک حادثات ایک انتہائی تشویشناک صورتحال اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ سڑکوں پر ہونے والے حادثات کے نتیجے میں نہ صرف قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں بلکہ متعدد خاندان عمر بھر کے لیے دکھ، تکلیف اور معاشی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی گھر کا واحد کفیل حادثے کا شکار ہو جائے تو اس کے بعد اس خاندان کو جن مسائل اور پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس کا اندازہ صرف وہی خاندان کر سکتا ہے جس پر یہ قیامت گزرتی ہے۔
ٹریفک حادثات صرف ایک فرد یا ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ پورے معاشرے کا اجتماعی مسئلہ ہیں۔ پیر محل اور گردونواح میں روزانہ سینکڑوں موٹر سائیکلیں، رکشے، کاریں، ٹریکٹر ٹرالیاں اور دیگر گاڑیاں سڑکوں پر رواں دواں رہتی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اب معمول بنتی جا رہی ہے۔ کم عمر بچوں کا موٹر سائیکل چلانا، تیز رفتاری، ون ویلنگ، اوور ٹیکنگ، بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانا اور دورانِ ڈرائیونگ موبائل فون کا استعمال ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی لمحے ایک بڑے حادثے کا سبب بن سکتے ہیں۔
خصوصاً نوجوان نسل میں تیز رفتاری کا رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔ بعض نوجوان سڑکوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا میدان سمجھتے ہیں اور چند لمحوں کی تفریح یا جوش میں اپنی اور دوسروں کی جان خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ یہ بات ہمیں سمجھنی ہوگی کہ سڑک کسی ایک فرد کی ملکیت نہیں بلکہ ہر شہری کا مشترکہ حق ہے۔ ہماری ایک چھوٹی سی غلطی کسی بے گناہ انسان کی زندگی چھین سکتی ہے۔
موٹر سائیکل پاکستان میں عام آدمی کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سواری ہے، لیکن بدقسمتی سے سب سے زیادہ حادثات بھی موٹر سائیکلوں کے ذریعے ہوتے ہیں۔ ہیلمٹ کا استعمال آج بھی بہت سے لوگوں کے نزدیک غیر ضروری سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ایک معیاری ہیلمٹ حادثے کی صورت میں انسانی جان بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ والدین کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا کہ وہ کم عمر بچوں کو موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہ دیں۔
ٹریفک حادثات کی ایک بڑی وجہ سڑکوں کی خراب حالت، تجاوزات، غیر مناسب پارکنگ اور ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ بھی ہیں۔ پیر محل جیسے مصروف شہر میں بازاروں اور اہم شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ بعض مقامات پر سڑکیں تنگ ہونے، غلط پارکنگ اور تجاوزات کی وجہ سے ٹریفک جام رہتی ہے، جس کے نتیجے میں ڈرائیور جلد بازی اور غلط راستوں کا استعمال کرتے ہیں۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ حادثات کے بعد صرف انتظامیہ یا پولیس کو ذمہ دار ٹھہرا دینا کافی نہیں۔ شہری ہونے کے ناطے ہم سب کی اپنی ذمہ داریاں بھی ہیں۔ اگر ہر شخص ٹریفک قوانین کی پابندی کرے، رفتار کو قابو میں رکھے، اشاروں کا احترام کرے اور دوسرے شہریوں کے حق کو تسلیم کرے تو حادثات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔
والدین کی ذمہ داری بھی اس حوالے سے بہت اہم ہے۔ بچوں کو صرف گاڑی یا موٹر سائیکل خرید کر دینا کافی نہیں بلکہ انہیں ٹریفک قوانین اور محفوظ ڈرائیونگ کی تربیت دینا بھی ضروری ہے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ تیز رفتاری بہادری نہیں بلکہ اکثر اوقات بے احتیاطی اور نادانی ہوتی ہے۔ حقیقی بہادری اپنی اور دوسروں کی زندگی کی حفاظت میں ہے۔
اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں بھی ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی پروگرام منعقد کیے جانے چاہئیں۔ طلبہ و طالبات کو ابتدائی عمر سے یہ شعور دیا جائے کہ سڑک پر چلتے ہوئے، سائیکل یا موٹر سائیکل استعمال کرتے ہوئے اور گاڑی میں سفر کرتے ہوئے کن احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا ضروری ہے۔
ٹریفک پولیس اور متعلقہ اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری مزید مؤثر انداز میں ادا کرنی چاہیے۔ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہونی چاہیے۔ صرف جرمانے کرنا ہی کافی نہیں بلکہ شہریوں میں آگاہی پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ مختلف شاہراہوں، بازاروں اور تعلیمی اداروں کے قریب ٹریفک قوانین سے متعلق آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ لوگوں میں ذمہ دار شہری ہونے کا احساس پیدا ہو۔
خاص طور پر موٹر سائیکل سواروں کو چاہیے کہ وہ ہیلمٹ کا استعمال اپنی عادت بنائیں، دو سے زائد افراد موٹر سائیکل پر سفر کرنے سے گریز کریں، تیز رفتاری نہ کریں اور دورانِ سفر موبائل فون کا استعمال ہرگز نہ کریں۔ اسی طرح کار چلانے والوں کو سیٹ بیلٹ کا استعمال یقینی بنانا چاہیے۔
ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ ایک ٹریفک حادثہ صرف چند لمحوں کا واقعہ ہوتا ہے لیکن اس کے اثرات پوری زندگی پر محیط ہو سکتے ہیں۔ ایک حادثے میں کسی کا بیٹا، کسی کا باپ، کسی کا بھائی یا کسی خاندان کا واحد سہارا ہمیشہ کے لیے جدا ہو سکتا ہے۔ مالی نقصان تو شاید وقت کے ساتھ پورا ہو جائے، لیکن انسانی جان کا کوئی نعم البدل نہیں۔
پیر محل کے شہریوں کو بالخصوص اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنی روزمرہ زندگی میں ذمہ داری، برداشت اور صبر کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ چند منٹ پہلے پہنچنے کی جلدی میں اپنی اور دوسروں کی زندگی داؤ پر لگانا دانشمندی نہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ انتظامیہ، ٹریفک پولیس، والدین، اساتذہ، سماجی تنظیمیں، صحافی اور عام شہری سب مل کر ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ اگر ہم نے آج اپنی ذمہ داری کو محسوس نہ کیا تو کل کسی اور کے گھر کا چراغ بجھنے کے بعد شاید ہمیں احساس ہو کہ احتیاط کتنی ضروری تھی۔
ہم ٹریفک قوانین کی پابندی کریں گے، تیز رفتاری سے گریز کریں گے، کم عمر بچوں کو گاڑی یا موٹر سائیکل چلانے کی اجازت نہیں دیں گے اور اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ دوسروں کی زندگی کو بھی قیمتی سمجھیں گے۔
کیونکہ احتیاط صرف ہماری حفاظت نہیں بلکہ ایک محفوظ اور ذمہ دار معاشرے کی بنیاد ہے۔
