Baaghi TV

جب لفظ دھڑکنے لگیں تو شاعری جنم لیتی ہے،تحریر: طاہر محمود

کچھ لوگ بات کرتے ہیں اور بات ختم ہو جاتی ہے، کچھ لوگ لکھتے ہیں اور تحریر ختم ہو جاتی ہے، مگر کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے الفاظ انسان کے اندر اتر کر وہیں گھر بنا لیتے ہیں۔ یہی لوگ شاعر کہلاتے ہیں اور یہی شاعری کا اصل معجزہ ہے۔

شاعری دراصل لفظوں کا ہنر نہیں، دل کی دھڑکن کو زبان دینے کا فن ہے۔ شاعر جب قلم اٹھاتا ہے تو صرف کاغذ پر الفاظ نہیں لکھتا بلکہ اپنے عہد کی کیفیت، اپنے دل کی کسک، اپنے معاشرے کا دکھ اور اپنے خوابوں کی روشنی بھی اس کے ساتھ کاغذ پر اترتی ہے۔شاید اسی لیے دنیا کی ہر بڑی تہذیب نے شاعری کو محض تفریح نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانی شعور کی ایک اہم ترین آواز قرار دیا۔ہماری اردو شاعری تو اس حوالے سے ایک پورا جہان اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ میر کے ہاں درد ہے، غالب کے ہاں فکر، اقبال کے ہاں بیداری، فیض کے ہاں محبت اور مزاحمت، فراز کے ہاں عشق اور احتجاج، منیر نیازی کے ہاں تنہائی اور پروین شاکر کے ہاں عورت کے احساس کی ایک پوری کائنات۔

میر کا یہ شعر پڑھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شاعر نے صدیوں پہلے ہمارے آج کے دل کی بات کہہ دی ہو:

"پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے”

یہی تو شاعری ہے۔

ایک شخص اپنے دل کا حال پوری دنیا کو نہیں بتا پاتا، مگر ایک شاعر اسے چند مصرعوں میں اس طرح بیان کر دیتا ہے کہ ہزاروں لوگ پڑھ کر کہتے ہیں: "یہ تو میری کہانی ہے۔”

شاعر کی کامیابی شاید یہی ہے کہ اس کا ذاتی دکھ اجتماعی احساس بن جائے۔

غالب کا کمال بھی یہی تھا کہ انہوں نے انسانی زندگی کے پیچیدہ سوالات کو شعر میں اس طرح سمویا کہ ہر دور کا انسان ان میں اپنا عکس تلاش کر لیتا ہے۔ اقبال نے شاعری کو خواب دیکھنے اور خواب کو عمل میں بدلنے کی قوت دی۔ فیض نے محبت کو صرف محبوب تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے انسان، معاشرے اور آزادی کے وسیع تر مفہوم سے جوڑ دیا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں شاعری محض شاعری نہیں رہتی بلکہ فکر بن جاتی ہے۔

آج ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جہاں معلومات بے شمار ہیں مگر احساس کم ہوتا جا رہا ہے۔ موبائل کی اسکرین پر انگلیاں مسلسل حرکت کرتی ہیں، پیغامات آتے جاتے ہیں، تصاویر لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہیں، مگر انسان کے پاس اپنے اندر جھانکنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔

ہم ہزاروں لوگوں سے جڑے ہوئے ہیں، مگر کبھی کبھی خود سے منقطع دکھائی دیتے ہیں۔

ایسے دور میں شاعری کی ضرورت کم نہیں ہوئی، بلکہ شاید پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

کیونکہ شاعری ہمیں رکنا سکھاتی ہے۔

ایک شعر پڑھتے ہوئے ہم چند لمحوں کے لیے دنیا سے الگ ہو جاتے ہیں۔ ہم لفظ کے پیچھے چھپے ہوئے احساس کو تلاش کرتے ہیں۔ کبھی کسی شعر میں اپنا ماضی مل جاتا ہے، کبھی کوئی بھولی ہوئی محبت، کبھی ماں کی یاد، کبھی وطن کی خوشبو اور کبھی کسی ایسے شخص کی کمی جسے وقت ہم سے بہت دور لے گیا ہو۔

شاعری کی سب سے بڑی طاقت یہی ہے کہ یہ یادوں کو آواز دے دیتی ہے۔

لیکن شاعری صرف محبت اور جدائی کا نام بھی نہیں۔ ایک بڑا شاعر اپنے عہد سے آنکھیں نہیں چراتا۔ وہ اپنے معاشرے کے دکھ کو محسوس کرتا ہے۔ وہ بھوک دیکھتا ہے تو خاموش نہیں رہتا، ظلم دیکھتا ہے تو سوال اٹھاتا ہے، جنگ دیکھتا ہے تو امن کی خواہش کرتا ہے، عورت کی بے بسی دیکھتا ہے تو اس کے حق میں آواز بنتا ہے، اور نوجوان کی مایوسی دیکھتا ہے تو اسے امید کا راستہ دکھاتا ہے۔

اسی لیے بڑے شعراء صرف اپنے زمانے کے شاعر نہیں ہوتے، وہ آنے والی نسلوں کے بھی ترجمان بن جاتے ہیں۔

شاعر دراصل معاشرے کا حساس آئینہ ہوتا ہے۔ آئینہ خوبصورتی بھی دکھاتا ہے اور داغ بھی۔ اگر شاعر صرف پھول دکھائے اور کانٹوں کو چھپا دے تو وہ اپنے عہد سے انصاف نہیں کرتا۔

آج اردو ادب کو بھی اسی حساسیت کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایسے شاعر اور ادیب چاہییں جو صرف داد حاصل کرنے کے لیے نہ لکھیں بلکہ دلوں کو جگانے کے لیے لکھیں۔ ایسے الفاظ جو محفل ختم ہونے کے بعد بھی ذہن میں زندہ رہیں۔ ایسے اشعار جو تالیاں نہیں بلکہ سوچ پیدا کریں۔

کیونکہ ادب کا مقصد صرف انسان کو محظوظ کرنا نہیں، اسے بہتر انسان بنانا بھی ہے۔

ایک خوبصورت شعر دل کو خوش کر سکتا ہے، مگر ایک عظیم شعر انسان کی سوچ بدل سکتا ہے۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ شاعر مر جاتا ہے مگر اس کے الفاظ نہیں مرتے۔

میر آج بھی ہم سے بات کرتے ہیں۔

غالب آج بھی ہمارے سوالوں میں زندہ ہیں۔

اقبال آج بھی نوجوان کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے بیداری کا درس دیتے ہیں۔

فیض آج بھی مایوسی کے اندھیرے میں امید کا چراغ دکھائی دیتے ہیں۔

اور پروین شاکر آج بھی محبت اور نسائی احساس کی وہ آواز ہیں جسے وقت خاموش نہیں کر سکا۔

یہی ادب کی ابدیت ہے۔

وقت بادشاہوں کے محل گرا دیتا ہے، سلطنتیں ختم ہو جاتی ہیں، نسلیں بدل جاتی ہیں، شہر اجڑ کر دوبارہ آباد ہو جاتے ہیں، مگر سچا لفظ اپنی زندگی خود پیدا کر لیتا ہے۔

شاعر کا قلم اسی لیے ایک عجیب امانت ہے۔ اسے محبت بھی لکھنی ہے اور سچ بھی۔ اسے حسن بھی دیکھنا ہے اور درد بھی۔ اسے اپنے عہد کی خوشبو بھی محفوظ کرنی ہے اور اس کے زخموں کی گواہی بھی دینی ہے۔

شاید شاعری کا سب سے بڑا سوال یہی ہے:

ہم نے اپنے زمانے کو کیا محسوس کیا؟

اور اس کا سب سے خوبصورت جواب بھی شاعری ہی دیتی ہے:

"لفظ جب دل سے نکلیں تو شعر بنتے ہیں،
اور جب شعر دل میں اتر جائیں تو تاریخ بن جاتے ہیں۔”

آج جب دنیا شور سے بھری ہوئی ہے، ہمیں ایسے لفظوں کی ضرورت ہے جو شور نہیں بلکہ معنی پیدا کریں۔ ایسے اشعار کی ضرورت ہے جو نفرت کے مقابلے میں محبت، مایوسی کے مقابلے میں امید، بے حسی کے مقابلے میں احساس اور اندھیرے کے مقابلے میں روشنی بن سکیں۔

کیونکہ آخرکار انسان کی اصل پہچان اس کے پاس موجود چیزوں سے نہیں، اس کے چھوڑے ہوئے الفاظ اور احساسات سے ہوتی ہے۔

اور جب ایک شاعر کا آخری سانس بھی خاموش ہو جائے، تب بھی اگر اس کا شعر کسی اجنبی دل میں دھڑک رہا ہو تو سمجھ لیجیے کہ وہ شاعر مرا نہیں۔

وہ اپنے لفظوں میں زندہ ہے۔

شاعری دراصل وہ چراغ ہے جسے شاعر اپنے دل سے روشن کرتا ہے، اور پھر زمانہ اسے ایک دل سے دوسرے دل تک منتقل کرتا رہتا ہے۔

یہی شاعری کا حسن ہے۔

یہی ادب کی طاقت ہے۔

اور شاید یہی انسان کے زندہ رہنے کا سب سے خوبصورت ثبوت بھی۔

More posts