Baaghi TV

اے چاند غزہ سے صبر لانا،تحریر: فاطمہ زہراء

رات اپنی تمام تر خاموشی کے ساتھ شہر پر اتر چکی تھی۔
وہ چھت پر اکیلی بیٹھی تھی سامنے آسمان پر چاند پوری آب و تاب سے روشن تھا، مگر آج اس کی روشنی میں بھی اسے ایک عجیب سی اداسی محسوس ہو رہی تھی۔ ہاتھ میں چائے کا کپ تھا چائے کب کی ٹھنڈی ہو چکی تھی، مگر وہ اب بھی اسے دونوں ہاتھوں میں تھامے بیٹھی تھی، جیسے اس کپ میں چائے نہیں، زندگی کی کوئی آخری حرارت باقی ہو۔
اس نے چاند کو دیکھا تو اچانک زندگی کے تمام دکھ ایک ایک کرکے اس کے سامنے آ بیٹھے۔
وہ رشتے جو وقت کے ساتھ اجنبی ہو گئے تھے۔۔
وہ لوگ جنہیں اپنا سمجھ کر دل دیا اور جنہوں نے اسی دل کو توڑ دیا۔۔۔
وہ خواب جو آنکھوں میں سجائے تھے مگر حالات نے انہیں خاک کر دیا۔۔۔
وہ راتیں جن میں وہ تکیے میں منہ چھپا کر روتی رہی تھی، تاکہ گھر کی دیواریں بھی اس کے دکھ سے واقف نہ ہوں
ایک آنسو اس کی پلک سے ٹوٹا اور چائے کے کپ میں جا گرا۔
پھر دوسرا۔۔۔
پھر تیسرا۔۔۔
وہ بے اختیار تڑپ اٹھی۔
"آخر کتنا درد ہے اس دنیا میں؟”
اس کی آواز رات کی خاموشی میں کہیں دور جا کر بکھر گئی
یا اللہ! انسان آخر کب تک برداشت کرے؟ ایک دکھ ختم نہیں ہوتا کہ دوسرا سامنے آ کھڑا ہوتا ہے آخر میرے ہی حصے میں اتنی آزمائش کیوں؟ آخر کب تک؟”
چاند اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔
وہ کچھ دیر اسے تکتی رہی پھر جیسے اچانک اسے یاد آیا کہ یہ وہی چاند ہے جو ہر رات دنیا کے ان حصوں پر بھی اپنی روشنی ڈالتا ہے جہاں رات صرف رات نہیں ہوتی۔ قیامت بن کر اترتی ہے۔
وہ چاند سے مخاطب ہو گئی
"اے چاند! تم تو غزہ کی راتوں کے بھی گواہ ہو نا؟”
چاند خاموش رہا۔
وہ بولتی گئی
"تم نے وہاں کی وہ راتیں دیکھی ہیں جن میں ستاروں کے بجائے آسمان بارود کی چنگاریوں سے روشن ہوتا ہے؟ تم نے وہ مائیں دیکھی ہیں جو بچوں کو گود میں سلانے کے بجائے کفن میں لپیٹتی ہیں؟ تم نے وہ ننھے چہرے دیکھے ہیں جن سے بچپن چھین لیا گیا؟”
اس کی آواز بھرا گئی۔
"تم نے وہ گھر دیکھے ہیں جو ایک لمحے میں ملبہ بن گئے؟ وہ باپ دیکھے ہیں جو اپنے بچوں کے ٹکڑے سمیٹتے ہیں؟ وہ بچے دیکھے ہیں جو اپنی ماں کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے خود خاموش ہو جاتے ہیں؟”
چاند پھر بھی خاموش تھا۔
مگر اس خاموشی میں جیسے صدیوں کی گواہی تھی۔
اسی لمحے ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا اور اس کے بالوں کو بکھیر گیا۔
وہ ہوا۔۔۔ جو ظلم و ستم کی اس بستی پر مدتوں سے چیتھڑے اڑاتی پھرتی تھی، ملبے کی گرد، دھوئیں کی بو اور مظلوموں کی آہیں اپنے دامن میں سمیٹ کر دنیا کے کونے کونے تک پہنچاتی تھی۔۔۔ اس کے کانوں میں سرگوشی کرنے لگی۔
"میں وہاں سے آتی ہوں۔۔۔”
وہ چونک کر ادھر اُدھر دیکھنے لگی۔
ہوا پھر سرسرائی:
"میں نے ان ماؤں کی چیخیں سنی ہیں جن کے بچے ان کی آنکھوں کے سامنے چھین لیے گئے۔ میں نے ان بچوں کی سسکیاں سنی ہیں جو ملبے تلے اپنے ماں باپ کو پکارتے رہے۔ میں نے گھروں کو راکھ بنتے دیکھا ہے، خوابوں کو ملبے میں دفن ہوتے دیکھا ہے۔۔۔ مگر میں نے انہی ملبوں کے درمیان ایسے دل بھی دیکھے ہیں جو اب بھی اپنے رب پر یقین رکھتے ہیں۔”
اس کے ہاتھ میں تھاما کپ لرزنے لگا۔
اچانک اس کے سامنے ایک ننھی سی بچی کا چہرہ ابھرا۔
صرف پانچ برس کی عمر۔۔۔ مگر آنکھوں میں پوری دنیا کا ماتم۔
اس کی پوری فیملی دنیا سے جا چکی تھی، مگر وہ خود اپنے بھائی کی فیملی بن گئی تھی۔ جس عمر میں اسے کسی کی انگلی تھام کر چلنا چاہیے تھا، وہ اپنے بھائی کی انگلی تھامے اسے زندگی کا راستہ دکھا رہی تھی۔
وہ دیر تک اس بچی کو دیکھتی رہی۔
اسے اپنا درد یاد آیا۔
اور پہلی مرتبہ اسے اپنا درد بہت چھوٹا محسوس ہوا۔
پھر منظر بدلا۔
ایک ماں سامنے تھی۔
اس کے سارے بچے ایک ایک کرکے شہید ہو چکے تھے۔ اب وہ اپنے آخری سپوت کو بھی الوداع کہہ رہی تھی۔ دل شاید ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا تھا، مگر زبان پر شکوہ نہیں تھا۔
وہ اپنے آنسوؤں کے درمیان کہہ رہی تھی
"حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل۔”
اس کے سینے سے ایک سسکی نکلی۔

"یہ کیسا صبر ہے؟”
وہ آسمان کی طرف دیکھ کر بولی
"یا اللہ! میں تو ایک دکھ پر ٹوٹ جاتی ہوں۔۔۔ یہ لوگ اپنے پورے خاندان کھو کر بھی تجھ سے شکوہ نہیں کرتے؟”
پھر اچانک اسے ایک بچے کی آواز سنائی دی۔
بہت دور سے آتی ہوئی۔۔۔
بہت کمزور۔۔۔
مگر اس کے ضمیر کو چیرتی ہوئی
"اے مسلمانوں! ہمیں بچا لو۔۔۔ ہم ختم ہو رہے ہیں۔”
اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹ کر زمین پر جا گرا۔
وہ اپنے گھٹنوں میں سر دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
اب اس کا ضمیر اس کے سامنے کھڑا تھا۔
وہ سوال کر رہا تھا
"کیا تمہارا درد ان سے بھی بڑا ہے؟”
وہ جواب دینا چاہتی تھی۔
کہنا چاہتی تھی کہ میرا درد بھی حقیقی ہے میری تکلیف بھی اپنی جگہ سچی ہے۔۔۔ میرے زخم بھی گہرے ہیں۔
مگر اس کے لب خاموش رہے۔
کیونکہ کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے دلیلیں دم توڑ دیتی ہیں۔
اس کے پاس صرف آنسو تھے۔
اور خاموشی۔
وہ دیر تک روتی رہی۔
پھر آہستہ سے سر اٹھایا۔
چاند اب بھی وہیں تھا۔
وہی چاند جو غزہ کی راتوں کا گواہ تھا۔
وہی چاند جو ملبے پر بھی چمکتا تھا اور ان ننھے چہروں پر بھی جنہوں نے اپنی آنکھوں میں بچپن کے بجائے جنگ دیکھی تھی۔
اس نے چاند سے کہا
"تم ہر رات وہاں بھی جاتے ہو نا؟”
چاند خاموش رہا
وہ مسکرائی، مگر آنکھیں اب بھی نم تھیں۔
"تم ہر رات غزہ کے آنگن سے ہو کر گزرتے ہو نا؟ وہاں کی ماؤں کا صبر، وہاں کی بیٹیوں کا حوصلہ اور ان بچوں کی دعائیں بھی دیکھتے ہو نا؟”
وہ چند لمحے خاموش رہی، پھر دھیرے سے بولی:
"اے چاند! میرے لیے بھی غزہ سے ذرا سا صبر لیتے آنا۔۔۔”
اسی لمحے درخت کی شاخوں کو ہلاتی ہوئی ہوا اس کے قریب سے گزری۔ اس نے آنکھیں موند لیں، جیسے ہوا کے دامن سے کوئی امانت مانگ رہی ہو۔
"اور اے ہوا۔۔۔!”
اس کی آواز لرز گئی۔
"تم بھی جب غزہ کی گلیوں سے گزرنا تو میرے لیے وہاں کی بیٹیوں جیسا ایمان لے آنا۔۔۔ ایسا ایمان جو اپنے عزیزوں کو اذیت و بے بسی آخری حد پر دیکھ کر بھی شکوہ نا کرے اپنوں کے بچھڑنے پر بھی شکوہ نہ کرے جو آنکھوں میں سمندر لیے بھی لبوں پر صرف یہ کہے حسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل۔”
وہ چھت سے نیچے اترنے لگی
پیچھے چاند اب بھی غزہ کی طرف دیکھ رہا تھا
اور ہوا۔۔۔
وہ پھر اسی سمت جا رہی تھی جہاں ماؤں کی گودیں اجڑی ہوئی تھیں، بچے یتیم تھے، گھر ملبہ تھے، مگر ایمان اب ابھی زندہ تھا

More posts