شہر کے کسی بھی پیٹرول پمپ پر چند لمحات کے لیے ٹھہر کر دیکھ لیجیے آپ کو نہ تو کسی تجزیہ کار کی باریک بینی کی ضرورت محسوس ہوگی اور نہ ہی کسی ماہرِ معیشت کی بوجھل اور پیچیدہ تقاریر کی۔ 8 ستمبر کی صبح جب پیٹرول پمپ کی ڈیجیٹل اسکرین پر پیٹرول کی نئی قیمت 358.77 اور ڈیزل کا ہندسہ 381.77 روپے پر جگمگایا تو وہاں محض نوزل کی سرسراہٹ سنائی نہیں دی بلکہ اس خاموشی میں ٹوٹتے ہوئے ضبط ، بکھرتی ہوئی خودداری اور دلوں کی گہرائیوں سے ابھرتی ہوئی سرد آہوں کا ماتم صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔
پمپ کے ایک کونے میں ایک باپ اپنے چھ سالہ بیٹے کو موٹر سائیکل پر اسکول چھوڑنے جا رہا تھا اس کی نظریں اسکرین کے بدلتے اعداد پر ٹھہر گئیں جیب میں ہاتھ گیا اور ایک سلوٹ زدہ سو روپے کا نوٹ باہر نکلا۔ اس نے ندامت چھپاتے ہوئے سیلز مین سے کہا "بھائی ! بس سو کا ڈال دو۔” سیلز مین نے بنا کچھ بولے نوزل کا بٹن دبایا ، ایندھن کی ایک باریک دھار بائیک کے سیاہ پیٹ میں اتری اور سیکنڈ کے دسویں حصے میں میٹر ساکت ہو گیا۔ کل تین سو ملی لیٹر ! ہاف بوتل سے بھی کم۔ باپ نے ٹینکی کے اندر جھانکا جہاں پیٹرول کی صرف ایک نمناک چمک تھی، بیٹے کے معصوم چہرے پر نظر ڈالی ، نظریں جھکائیں اور بغیر کچھ بولے ہینڈل سنبھال کر آگے بڑھ گیا۔ یہ منظر کسی پمپ کا اکیلا واقعہ نہیں یہ اس ملک کا نیا قومی المیہ ہے جہاں ہر باپ روزانہ اپنے بچے کے سامنے خاموشی سے شرمندہ ہو رہا ہے۔
اسلام آباد کے ٹھنڈے دفتروں میں بیٹھے بیوروکریٹ کے لیے یہ منظر محض ایک عددی تخمینہ ہے وہ اپنی پریس ریلیز میں نفاست سے لکھ دیتے ہیں کہ "واشنگٹن اور تہران کی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے خطرات کے باعث برینٹ کروڈ 97 ڈالر تک جا پہنچا ہے لہٰذا روزانہ کی بنیاد پر ایڈجسٹمنٹ ضروری تھی”۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب عالمی سیاست کا نزلہ گرنا ہوتا ہے تو اس کا تاوان صرف فیصل آباد کے دیہاڑی دار ، ملتان کے کسان اور لاہور کے رکشے والے کے چولہے سے ہی کیوں وصول کیا جاتا ہے؟ جولائی سے نافذ العمل اس "ڈیلی پرائسنگ میکانزم” کا سائنسی ڈرامہ دیکھیے کہ جب لوگ سو رہے ہوتے ہیں تو چپکے سے دو تین روپے بڑھا دیے جاتے ہیں اور جب احتجاج کی آوازیں اٹھتی ہیں تو دو روپے کی مراعات کا ڈھنڈورا پیٹ کر اگلے ہی ہفتے 13 روپے کا بم گرا دیا جاتا ہے۔
الم ناک حقیقت یہ ہے کہ جب حکومتیں اپنے ہی ملک سے خام تیل کی پیداوار بڑھنے کے دعوے کرتی ہیں تو عام شہری یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ اس مقامی وسائل کی میٹھی فصل آخر کس ایوان میں بانٹی جا رہی ہے؟ اگر اپنے ہی ملک کی زمین سے نکلنے والے ایندھن کو بھی خلیجِ فارس کے مہنگے ترین برآمدی ریٹ ان لینڈ فریٹ اور مارجنز کے حساب سے بیچا جانا ہے تو پھر ان ڈرلنگ رگز اور پیٹرولیم ڈویژن کی بھاری بھرکم پالیسیوں کا عام آدمی کو کیا فائدہ؟ سچ تو یہ ہے کہ ریاست کے لیے یہ ایندھن معیشت کی حرکت کا ذریعہ نہیں بلکہ 114 روپے پیٹرول اور 100 روپے ڈیزل پر لیوی کی مد میں وصول کیا جانے والا ایک آسان اور غیر لچکدار ٹیکس بن چکا ہے۔
جب ڈیزل 381 روپے کو چھوتا ہے تو صرف گاڑی کا انجن نہیں جلتا ، کسان کے ٹیوب ویل کا پانی مہنگا ہوتا ہے ، منڈی سے سبزی لانے والے ٹرک کا کرایہ بڑھتا ہے اور رات کو جب ایک مزدور گھر لوٹتا ہے تو آٹے دال کی تھیلی پر وہ ڈیزل ایک تازیانہ بن کر پڑتا ہے۔
یہ بحران محض عالمی منڈی کی مجبوری نہیں بلکہ ہماری پالیسی سازوں کی ملی بھگت اور لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔ اگر حکومت واقعی معیشت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنا چاہتی ہے تو اسے چند بنیادی معاشی اصلاحات کو فوری اپنانا ہوگا۔ اول روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کی تعین کاری (Daily Pricing) کا ظالمانہ نظام فوری ختم کر کے ‘پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ’ (Buffer Fund) قائم کیا جائے تاکہ عالمی منڈی کے وقتی جھٹکوں کا بوجھ سیدھا عوام کی جیب پر نہ پڑے۔ دوئم مقامی سطح پر پیدا ہونے والے خام تیل اور ایندھن پر پیٹرولیم لیوی کا اطلاق عالمی درآمدی نرخوں کے برابر کرنے کی بجائے ایک متوازن ‘ویٹڈ ایوریج کاسٹ’ (Weighted Average Cost) ماڈل اپنایا جائے اور سوئم غریب عوام پر غیر براہ راست (Indirect) ٹیکسوں کا کوڑا برسا کر خزانہ بھرنے کی بجائے اشرافیہ کی مراعات پر کٹائی کی جائے اور پیٹرولیم لیوی کو ایک معقول حد تک نیچے لایا جائے۔
یہ تحریر محض اعداد و شمار کا کوئی خشک دفتر نہیں بلکہ اس عام پاکستانی کا مرثیہ ہے جو اپنے بچے کی کاپی اور پیٹرول کے چند قطرے خریدنے کی کشمکش میں مبتلا ہو چکا ہے۔ اگر حکومت کے پاس معیشت چلانے کا واحد طریقہ ہر عالمی طوفان کا بوجھ غریب کے چولہے پر منتقل کر دینا ہی ہے تو پھر ان بھاری بھرکم بیوروکریٹیک سسٹم اور معاشی ارسطوؤں کا وجود کس کام کا؟ پیٹرولیم لیوی کا یہ ظالمانہ بوجھ فوری کم کیجیے ورنہ یاد رکھیے پیٹرول کی یہ آگ صرف گاڑیوں کی ٹینکیوں تک محدود نہیں رہتی جب یہ غریب کے خالی چولہے سے اٹھتی ہے تو اس کا دھواں ایوانِ اقتدار کے تاج و تخت کو بھی راکھ کر دیتا ہے
