جس شخص کو دیکھو اسے اپنی ہی پڑی ہے
دیوار کہاں ورنہ کوئی قد سے بڑی ہے
تیرے ہی لئے سر پہ بٹھایا ہے وگرنہ
دنیا تو کبھی کی مرے قدموں میں پڑی ہے
لگتا ہے کسی روز دھماکے سے گرے گی
دیوار جو تنکے کے سہارے پہ کھڑی ہے
یونہی تو نہیں میرے چراغوں میں اجالا
اک روشنی سی دل کے فواروں سے جھڑی ہے
خانی یہ کہاں دیکھنے دیتی ہے کسی کو
جو گرد کسی آنکھ کے شیشے پہ پڑی ہے
