اس جہاں میں شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو گا جو خود کو خود بدل دینا چاہتا ہو،اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو مجبور کر دیئے جاتے ہیں،کبھی حالات کے سانچے میں خود کو ڈھال لیتے ہیں تو کبھی وقت کا ہیر پھیر انہیں بدل ڈالتا ہے۔
ہم ہمیشہ وہ نہیں ہوتے جو نظر آتے ہیں،اگر کبھی ماضی میں جھانک کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ کسی وقت میں ہم بھی بہت حساس ہوتے تھے،لوگوں کے دکھ کو بھی اپنا دکھ سمجھتے تھے۔لیکن ہماری اس حساس طبیعت کا غلط استعمال کیا جاتا رہا اور اسی غلط استعمال نے بالآخر ہمیں ایک سنگدل انسان بنا دیا،ایک ایسا انسان جو لوگوں کی باتوں کو اہمیت دیتے دیتے خود اپنی زات کو کہیں دور چھوڑ گیا،اسے بدلے میں جب کچھ ملا تو فقط دکھ،تکلیف،اذیت،اور پتھر دل لوگوں کی یادیں۔
میں نے زندگی کے گزرے ماہ و سال سے سیکھا ہے کہ اگر ہم اپنی حساسی طبیعت کے باعث کسی سے مخلص بھی ہوتے ہیں تو وہ مخلصی بھی ہمارے منہ پر پٹخ دی جاتی ہے۔
حساس طبیعت کے مالک لوگ تو فقط اتنا ہی جانتے ہیں کہ ہر ایک ان کی طرح دل کا صاف،نیت کا خالص،اور وفاداری میں بےلوث ہے،مگر حقیقت اس کے بر عکس ہے۔اور پھر یہ نازک مزاج لوگ جب اہل جہاں سے روشناس ہوتے ہیں تو انہیں یہ دنیا ایک آنکھ نہیں بھاتی،پھر وہ ٹوٹ جاتے ہیں،بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ پھر وہ توڑ دیئےجاتے ہیں،ان کے اعتبار کو ایسی ٹھیس پہنچتی ہے کہ وہ کسی کو بھی قابل اعتبار نہیں سمجھ سکتے۔
وہ زندگی میں آگے بڑھنے سے خوف محسوس کرتے ہیں،
انہیں انسانوں سے ڈر لگتا ہے۔
وہ بے بس ہو جاتے ہیں زندگی کو جینے کے لئے،مجبوری سے دن گزارتے ہیں،کیونکہ وہ بکھر جاتے ہیں اور بکھرے ہوئے ان موتیوں کو جوڑنے والا اول تو کوئی نہیں ہوتا،اگر کوئی کوشش بھی کرے انھیں جوڑنے کی، تو وہ اسے بھی نگاہ شک سے دیکھتے ہیں۔
"تم کیا جانو قابل ترس ہوتے ہیں یہ لوگ
حالات کے بدلے ہوئے سادہ لوح لوگ ”
اس سب کے باوجود بھی ہم ان بدلے ہوئے لوگوں سے جب بھی کہتے ہیں تو فقط یہ کہ "آپ بدل گئے ہیں،آپ وہ نہیں رہے جس سے ہم نے تعلق بنایا تھا”۔تو یہ جملے کہتے وقت اتنا ضرور سوچئے گا کہ یہ مجبور کر کے بدل جانے والے لوگ ہیں۔۔
خدارا ان حساس اور نازک مزاج لوگوں کا خیال کیجئے کیونکہ یہی تو وہ لوگ ہیں جن سے انسانیت کا وجود قائم ہے۔انسانیت نام ہے دوسرے انسانوں کے درد کو محسوس کرنے کا،اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو دنیا میں انسان تو باقی رہ جائیں گے لیکن انسانیت ختم ہو جائے گی۔
