بلوں کے بعد جیب خالی، پھل سبزیاں خریدنا دشوار، مٹن بیف بھی سرکاری نرخ پر نایاب مزدور، متوسط طبقہ پس گیا
منڈی سے پرچون تک نرخوں کا مکمل نظام شفاف بنایا جائے، بولی، تھوک و پرچون قیمتوں کی ذمہ داری طے ہو صرف ریڑھی بانوں کو جرمانے مسلے کا حل نہیں
گوجرخان (قمرشہزاد) کمر توڑ مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ بجلی، گیس اور دیگر بنیادی بل ادا کرنے کے بعد متوسط، مزدور اور دیہاڑی دار طبقے کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہے، پھل اور سبزیاں خریدنا مشکل جبکہ گوشت عام آدمی کی دسترس سے باہر ہوگیا ہے۔ شہریوں کے مطابق مٹن اور بیف بھی سرکاری نرخنامے پر دستیاب نہیں، جس کے باعث سرکاری نرخنامہ عملی طور پر بے اثر دکھائی دیتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ پھل، سبزیاں اور دیگر اشیائے ضروریہ سرکاری نرخوں پر دستیاب نہ ہونے کے باعث خریدار اور چھوٹے دکاندار، ریڑھی بان و چھابہ فروش آمنے سامنے ہیں۔ جبکہ سبزی پھل فروشوں کا مؤقف ہے کہ انہیں منڈی میں ہی مہنگے داموں مال ملتا ہے، اس لیے سرکاری نرخ پر فروخت ان کے لیے ممکن نہیں۔ عوامی حلقوں نے اسسٹنٹ کمشنر گوجرخان سیدہ زینب حسین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روزانہ منڈی میں پھلوں اور سبزیوں کی بولی اپنی نگرانی میں خود کروائیں، منڈی سے پرچون تک قیمتوں کے تعین اور ذمہ داریوں کا واضح نظام بنائیں اور پرائس مجسٹریٹس اور پیرا فورس کو پورے سپلائی چین کی نگرانی کا پابند کریں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ صرف کمزور ریڑھی بانوں، چھابہ فروشوں اور چھوٹے دکانداروں کو جرمانے کرکے کارروائی مکمل کرنا عوامی مسئلے کا حل نہیں؛ قیمت کہاں بنتی ہے اور منڈی سے بازار تک کہاں بڑھتی ہے، اس کا تعین کرکے اصل ذمہ داروں کا بھی محاسبہ ضروری ہے۔
سرکاری نرخنامہ بے اثر اے سی گوجرخان منڈی میں اپنی نگرانی میں بولی کرائیں ،مطالبہ
