انڈونیشیا کے جزیرے سولاویسی میں ماہرین آثارِ قدیمہ نے ایسے انسانی فوسلز دریافت کیے ہیں جن کے دانتوں میں 16 ہزار سے 25 ہزار سال پرانے سپاری کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت انسان کی جانب سے کسی نفسیاتی اثر رکھنے والے مادے کے استعمال کا اب تک کا قدیم ترین معلوم ثبوت ہے۔
تحقیق کے مطابق دو قدیم انسانی باقیات سولاویسی کے جنوبی علاقے میں دو مختلف مقامات سے دریافت ہوئیں۔ ان میں سے ایک کی عمر 16 ہزار سے 25 ہزار سال کے درمیان بتائی گئی ہے، جو انسانی منشیات کے استعمال کے سابقہ معلوم شواہد سے کم از کم 3 ہزار سال پرانی ہے۔ یہ تحقیق سائنسی جریدے ’سائنس ایڈوانسز‘ میں شائع ہوئی ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں افراد شکاری اور خوراک جمع کرنے والے قدیم انسان تھے اور دونوں کی عمریں 35 سال سے زیادہ تھیں۔ ان میں سے ایک کی عمر تقریباً 6,300 سے 7,600 سال بتائی گئی ہے۔ دونوں افراد سولاویسی میں زراعت کے آغاز سے بھی پہلے کے دور سے تعلق رکھتے تھے۔
تحقیق کے دوران ماہرین کو دونوں افراد کے دانتوں پر گہرے اور غیر معمولی نشانات ملے۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 10 ہزار سال کے فرق سے تعلق رکھنے والی ان دونوں انسانی باقیات میں دانتوں پر ایک جیسے مخصوص نشانات پائے گئے، جن کی ابتدائی طور پر کوئی واضح وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔
دانتوں کے نشانات کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ یہ کسی ایک سے دو سینٹی میٹر کے گول جسم کو بار بار منہ میں رکھ کر چوسنے کے نتیجے میں بنے تھے۔ تحقیق کے سربراہ اور گریفتھ یونیورسٹی سے وابستہ ماہر آثارِ قدیمہ ایڈم برم کے مطابق انہیں فوری طور پر خیال آیا کہ یہ سپاری چوسنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نشانات ہوسکتے ہیں۔
سپاری، جسے اریکا نٹ بھی کہا جاتا ہے، جنوب مشرقی ایشیا کے ایک پام کے درخت کے پھل کا بیج ہے اور آج بھی دنیا میں استعمال ہونے والے عام نفسیاتی اثر رکھنے والے مادوں میں شامل ہے۔ موجودہ دور میں عام طور پر سپاری کو پیس کر چونے سمیت دیگر اجزا کے ساتھ ملا کر چبایا جاتا ہے تاکہ اس کے نفسیاتی اثرات کو بڑھایا جاسکے۔
محققین نے یہ مفروضہ پیش کیا کہ سپاری چبانے کی موجودہ روایت سے پہلے انسان اسے صرف چوسنے کے لیے استعمال کرتے ہوں گے۔ اس مفروضے کو جانچنے کے لیے ماہرین نے ایک تجربہ کیا، جس میں سپاری کو مصنوعی لعاب میں بھگو کر اس کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔
اس کے بعد اس لعاب کو ایسے مینڈک کے انڈوں پر آزمایا گیا جن میں انسانی دماغ کے ریسیپٹرز پیدا کرنے کے لیے جینیاتی تبدیلی کی گئی تھی۔ تجربے کے نتائج سے معلوم ہوا کہ سپاری چوسنے سے انسانی دماغ کے خلیات متاثر ہوسکتے ہیں، تاہم اس کا اثر موجودہ دور میں چونے کے ساتھ سپاری چبانے کے مقابلے میں کم ہوگا۔
محققین نے قدیم دانتوں پر موجود باقیات کا بھی تجزیہ کیا، جس کے دوران ’ایریکولین‘ نامی مادے کے آثار ملے۔ ایریکولین سپاری میں موجود بنیادی نفسیاتی اثر رکھنے والا جزو ہے اور اس کے اثرات کسی حد تک نکوٹین سے مشابہ ہیں۔
آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی سے وابستہ ماہر آثارِ قدیمہ صوفیہ سیمپر کارو، جو اس تحقیق میں شامل نہیں تھیں، نے بھی اس نتیجے سے اتفاق کیا کہ دانتوں پر موجود نشانات سپاری چوسنے کی وجہ سے بنے ہوں گے۔ ان کے مطابق منشیات کے استعمال سے متعلق یہ ابتدائی شواہد پہلے سے معلوم شواہد سے ہزاروں سال قدیم ہیں۔
اس سے قبل انسانی جانب سے کسی نفسیاتی اثر رکھنے والے مادے کے استعمال کا قدیم ترین معلوم ثبوت تقریباً 13 ہزار سال پرانی اسرائیل میں بیئر بنانے کی روایت کو سمجھا جاتا تھا۔
محققین کا کہنا ہے کہ قدیم انسان سپاری کو ممکنہ طور پر منہ کے درد اور تکلیف کم کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے، کیونکہ اسے چوسنے سے منہ میں سن ہونے جیسا اثر پیدا ہوتا ہے۔ تاہم سپاری کے مسلسل استعمال سے دانتوں کو نقصان بھی پہنچتا تھا اور گہرے نشانات بعض اوقات دانت کے اندر موجود گودے تک پہنچ جاتے تھے، جس سے دانتوں میں شدید درد پیدا ہوسکتا تھا۔
تحقیق کے سربراہ ایڈم برم کے مطابق یہ صورت حال ایک ’شیطانی چکر‘ کی شکل اختیار کرسکتی تھی، کیونکہ درد کم کرنے کے لیے جتنی زیادہ سپاری چوسی جاتی، دانتوں کو اتنا ہی زیادہ نقصان پہنچتا اور پھر اس نقصان سے پیدا ہونے والے درد کے علاج کے لیے سپاری کا استعمال مزید بڑھ جاتا۔
ماہرین کے مطابق موجودہ دور میں بھی سپاری کے استعمال کے منہ اور دانتوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کا تعلق منہ کے سرطان کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی جوڑا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سولاویسی سے ملنے والی یہ دریافت نہ صرف ہزاروں سال قبل انسانوں میں قدرتی نفسیاتی مادوں کے استعمال کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ اس بات کا بھی امکان ظاہر کرتی ہے کہ انسان درد، انفیکشن اور دیگر تکالیف کے علاج کے لیے قدرتی پودوں اور مرکبات کا استعمال اس سے بھی بہت پہلے شروع کرچکے تھے۔
محققین کے مطابق انسانی معاشروں میں کسی نہ کسی شکل میں منشیات یا نفسیاتی اثر رکھنے والے مادوں کے استعمال کی روایت بہت قدیم ہے، تاہم اس کے ابتدائی دور سے متعلق شواہد انتہائی کم دستیاب ہیں۔ سولاویسی سے ملنے والے 25 ہزار سال پرانے دانتوں کے یہ شواہد انسانی تاریخ میں ایسی روایات کی قدامت پر نئی روشنی ڈالتے ہیں۔
