اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے سے قبل متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید کی جانب سے مبینہ وارننگ کی خبر کو مسترد کرتے ہوئے معروف اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیلی اخبار ’ہارٹز‘ نے اپنی تحقیق میں دعویٰ کیا تھا کہ محمد بن زاید نے 7 اکتوبر کے حماس حملے سے تقریباً ڈیڑھ ہفتہ قبل نیتن یاہو سے رابطہ کرکے انہیں خبردار کیا تھا کہ حماس ایک بڑی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔ اخبار کے مطابق مبینہ گفتگو تقریباً 45 منٹ جاری رہی اور اماراتی صدر نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ ممکنہ کارروائی بڑے پیمانے پر خونریزی اور خطے میں عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نیتن یاہو نے مبینہ وارننگ کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور یہ اطلاع اسرائیل کی اعلیٰ سکیورٹی قیادت تک بھی منتقل نہیں کی۔ ’ہارٹز‘ کے مطابق نیتن یاہو کا خیال تھا کہ حماس شاید غزہ کے بجائے مقبوضہ مغربی کنارے میں کارروائی کی تیاری کر رہی ہے۔
تاہم نیتن یاہو نے اخبار کی رپورٹ کو من گھڑت اور جھوٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے خلاف ایسی کہانی گھڑی گئی جو کبھی ہوئی ہی نہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ستمبر 2023 کے آغاز سے 7 اکتوبر تک ان کی محمد بن زاید سے کوئی گفتگو نہیں ہوئی۔
نیتن یاہو کے مطابق وزیراعظم کے دفتر، قومی سلامتی کونسل اور فوجی سیکرٹری نے مذکورہ عرصے کے دوران ان کے فون ریکارڈز کا باریک بینی سے جائزہ لیا، تاہم ایسی کسی گفتگو کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ انہوں نے اپنے وکلا کو ’ہارٹز‘، صحافی شلومو ایلدار اور رپورٹ سے وابستہ دیگر فریقین کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے دونوں رہنماؤں کے درمیان مبینہ خفیہ رابطوں کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ محمد بن زاید سے گفتگو کے لیے ایک خصوصی محفوظ مواصلاتی نظام استعمال کیا جاتا تھا۔ ان کے مطابق اماراتی نمائندہ ایک انکرپٹڈ ڈیوائس وزیراعظم کے دفتر لاتا تھا اور سکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث کسی اماراتی اہلکار کا دفتر میں داخلہ ریکارڈ کیے بغیر ممکن نہیں تھا۔
دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ نے دونوں رہنماؤں کے درمیان مبینہ گفتگو کی براہِ راست تصدیق یا تردید سے گریز کیا ہے۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ حکومتی سربراہان کے درمیان ہونے والی گفتگو سے متعلق میڈیا رپورٹس یا قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتی۔
تاہم اماراتی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہونے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کھلے اور براہِ راست رابطے کے ذرائع موجود ہیں، جبکہ ضرورت کے وقت متعلقہ حکام کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ بھی ہوتا رہا ہے اور اب بھی جاری ہے۔
معاملے میں اس وقت مزید پیچیدگی پیدا ہوئی جب اسرائیلی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے مشرق وسطیٰ کے ایک سینئر انٹیلی جنس اہلکار کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ متحدہ عرب امارات نے واقعی اسرائیل کو حماس کی جانب سے ممکنہ بڑی کارروائی کے بارے میں معلومات فراہم کی تھیں۔
نام ظاہر نہ کرنے والے انٹیلی جنس اہلکار کے مطابق معلومات ایک انتہائی قابلِ اعتماد ذریعے سے حاصل ہوئی تھیں اور اماراتی حکام نے انہیں سنجیدگی سے لیا تھا۔ ان کے مطابق یہ وارننگ حملے سے کچھ عرصہ قبل اسرائیل تک پہنچی تھی اور اس میں بتایا گیا تھا کہ حماس جلد ایک بڑی کارروائی کرسکتی ہے، تاہم حملے کی مخصوص تاریخ نہیں بتائی گئی تھی۔
اہلکار نے یہ تصدیق نہیں کی کہ آیا محمد بن زاید نے ذاتی طور پر نیتن یاہو سے رابطہ کیا تھا، تاہم ’یدیعوت احرونوت‘ کے مطابق ان کی فراہم کردہ معلومات ’ہارٹز‘ کی تحقیقات میں سامنے آنے والے بعض دعووں کی کم از کم جزوی طور پر تائید کرتی ہیں۔
خفیہ رابطوں کے طریقہ کار سے متعلق بھی مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ ’یدیعوت احرونوت‘ کے مطابق رابطے کے لیے اماراتی انٹیلی جنس کا ایک اہلکار خصوصی ایپلی کیشن سے لیس مخصوص فون نیتن یاہو کے دفتر لاتا تھا، جو مبینہ طور پر گفتگو کے لیے استعمال کیا جاتا اور بعد میں ڈیوائس کو تلف کردیا جاتا تھا۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے ’کان‘ نے بھی اسی نوعیت کی تفصیلات رپورٹ کی ہیں۔
دوسری جانب ’ہارٹز‘ نے نیتن یاہو کی جانب سے مقدمے کی دھمکی کے باوجود اپنی رپورٹنگ کا دفاع کیا ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس کی اصل تحقیق تین سینئر غیرملکی ذرائع کی معلومات پر مبنی تھی اور ان ذرائع کے مطابق محمد بن زاید نے ستمبر 2023 کے آخری دنوں میں نیتن یاہو سے رابطہ کرکے یحییٰ سنوار کی جانب سے اسرائیل کے خلاف ممکنہ بڑی کارروائی کی تیاری سے آگاہ کیا تھا۔
متضاد دعووں اور رپورٹس کے بعد معاملے کا بنیادی سوال تاحال برقرار ہے کہ آیا محمد بن زاید نے واقعی 7 اکتوبر کے حملے سے قبل نیتن یاہو کو حماس کی ممکنہ بڑی کارروائی سے خبردار کیا تھا، اور اگر اسرائیلی حکام کو ایسی کوئی معلومات موصول ہوئی تھیں تو اس کے بعد ان کی جانب سے کیا اقدامات کیے گئے۔
