پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیسرے روز بھی 100 انڈیکس منفی رجحان کے ساتھ کاروبار کے اختتام پر بند ہوا، جبکہ مارکیٹ میں کاروباری حجم بھی 20 مئی کے بعد کم ترین سطح پر آگیا۔ سرمایہ کاروں کی توجہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث بڑھتی ہوئی خام تیل کی قیمتوں اور 14 ستمبر کو ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس پر مرکوز رہی۔
کاروباری دن کے اختتام پر پی ایس ایکس کا 100 انڈیکس 698 پوائنٹس کی کمی کے بعد ایک لاکھ 71 ہزار 943 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ گزشتہ تین کاروباری دنوں کے دوران انڈیکس مجموعی طور پر 3 ہزار 385 پوائنٹس کم ہوچکا ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں مسلسل منفی رجحان برقرار ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچنے سے سرمایہ کاروں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان کی معیشت اور مہنگائی کے حوالے سے بھی خدشات کو بڑھایا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خام تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا اثر مسلسل عوام تک منتقل ہونے کے باعث مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے سرمایہ کار 14 ستمبر کو ہونے والے مانیٹری پالیسی اجلاس کے فیصلے پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے باعث مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی سرگرمیاں محدود رہیں اور کاروباری حجم تقریباً چار ماہ کی کم ترین سطح پر آگیا۔
حصص بازار میں کاروباری دن کے دوران مجموعی طور پر 47 کروڑ شیئرز کے سودے ہوئے، جن کی مالیت تقریباً 22 ارب روپے رہی۔ کاروبار کے اختتام پر اسٹاک مارکیٹ کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن 62 ارب روپے کم ہوکر 19 ہزار 233 ارب روپے رہ گئی۔
واضح رہے کہ گزشتہ تین کاروباری دنوں کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں مجموعی طور پر 395 ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے مارکیٹ میں جاری دباؤ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
