سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے غیر معیاری کاسمیٹکس کی تیاری اور درآمد کے خلاف سخت سزاؤں پر مشتمل جنرل کاسمیٹکس بل 2026 کی منظوری دے دی، جبکہ تعلیمی اداروں میں انرجی ڈرنکس کے استعمال پر پابندی عائد کرنے سے متعلق بل بھی اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔
کامل علی آغا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی کا اجلاس ہوا، جس میں جنرل کاسمیٹکس بل 2026 سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی رضا حیات ہراج نے کاسمیٹکس کی صنعت سے متعلق موجودہ صورتحال پر کمیٹی کو بریفنگ دی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں کاسمیٹکس کی تیاری اور فروخت کے حوالے سے مؤثر حکومتی کنٹرول موجود نہیں، جس کے باعث غیر معیاری مصنوعات کی روک تھام میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض بیوٹی کریمز میں مرکری جیسے مضر اجزا کا استعمال انسانی صحت کے لیے خطرناک ہے اور اس کے نتیجے میں جلد کے کینسر سمیت مختلف طبی مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
رضا حیات ہراج کے مطابق ملک میں کاسمیٹکس کے حوالے سے مناسب قانون سازی اور معیارات نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی مصنوعات کو عالمی منڈی میں برآمد کرنے میں بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاسمیٹکس کی صنعت سے وابستہ بعض کاروباری افراد اس شعبے سے بڑے پیمانے پر منافع کما رہے ہیں، جبکہ چیچہ وطنی کو کاسمیٹکس کی تیاری اور کاروبار کے بڑے مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔
وفاقی وزیر نے کمیٹی کو بتایا کہ بیرون ملک سے بھی بڑی مقدار میں کاسمیٹکس پاکستان لائی جاتی ہیں۔ بعض افراد سامان کے بیگ بھر کر کاسمیٹکس ملک میں لاتے ہیں، جو بعد ازاں بڑے اسٹورز پر فروخت کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیر معیاری اور غیر قانونی طریقے سے درآمد کی جانے والی مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی ضروری ہے۔
جنرل کاسمیٹکس بل 2026 میں کاسمیٹکس کی درآمد پر ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔ بل کے تحت غیر معیاری کاسمیٹکس تیار کرنے یا درآمد کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ خلاف ورزی کرنے والوں کو سات سال تک قید اور ایک کروڑ روپے تک جرمانے کی سزا دی جاسکے گی۔
بل میں غیر معیاری کاسمیٹکس کی تیاری، درآمد اور مارکیٹ میں فروخت کی روک تھام کے لیے ایک باقاعدہ اتھارٹی کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے، جو کاسمیٹکس کے معیار کی نگرانی اور متعلقہ قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے کام کرے گی۔
اجلاس کے دوران تعلیمی اداروں میں انرجی ڈرنکس کے استعمال پر پابندی سے متعلق بل بھی زیر غور آیا۔ کمیٹی نے دونوں بلوں پر غور کے بعد انہیں اتفاق رائے سے منظور کرلیا، جس کے بعد غیر معیاری کاسمیٹکس کے خلاف قانونی کارروائی اور تعلیمی اداروں میں انرجی ڈرنکس کے استعمال پر پابندی کے حوالے سے قانون سازی کی راہ ہموار ہوگئی۔
