Baaghi TV

نئے صوبے پی ٹی آئی بنائے تو ٹھیک، کوئی اور بنائے تو ان کو تکلیف ہوتی ہے، بیرسٹر عقیل ملک

وفاقی وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ تحریک انصاف خود نئے صوبے بنائے تو اسے کوئی اعتراض نہیں ہوتا، لیکن کوئی اور جماعت نئے صوبوں کی بات کرے تو اسے تکلیف ہوتی ہے۔

ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ رواں ماہ سینیٹ یا قومی اسمبلی کا کوئی اجلاس شیڈول نہیں، تاہم اگر قیادت اور پارلیمانی لیڈرز مناسب سمجھیں تو اسمبلی کا اجلاس طلب کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کے مطابق حکومت کی قائم کردہ کمیٹی کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ اگر کسی کا مؤقف ہے کہ موجودہ اسمبلی قانونی حیثیت نہیں رکھتی تو پھر نئے صوبوں کے قیام سمیت اہم معاملات پر عوام سے رائے لی جانی چاہیے۔

بیرسٹر عقیل ملک نے تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر نئے صوبے پی ٹی آئی بنائے تو اسے سب کچھ درست نظر آتا ہے، لیکن یہی اقدام کوئی دوسری جماعت کرے تو تحریک انصاف کو اعتراض شروع ہوجاتا ہے۔

وزیر مملکت برائے قانون نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا تھا، اسی صورتحال کے باعث حکومت کو لانگ مارچ کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کا کوئی لانگ مارچ ماضی میں مکمل طور پر پرامن نہیں رہا، اس لیے آئندہ ممکنہ لانگ مارچ بھی غیر آئینی اور غیر قانونی ہوگا۔

انہوں نے سانحہ پمز سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کی رپورٹ میں تمام حقائق شامل کیے جائیں گے اور رپورٹ کے ذریعے واقعے سے متعلق صورتحال واضح ہوجائے گی۔

More posts