واشنگٹن: امریکی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے مشرق وسطیٰ میں اپنے اہلکاروں اور فوجی تنصیبات کی تعداد کم کرنے کے مختلف آپشنز پر غور شروع کردیا ہے، جبکہ خطے میں موجود باقی ماندہ امریکی دستوں کے تحفظ کے لیے بھی نئی حکمت عملی زیرِ غور ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق متعدد ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ جاری تنازع ختم کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اور انٹیلی جنس موجودگی میں نمایاں کمی کیے جانے کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد امریکا نے مشرق وسطیٰ میں اپنے فوجی اور انٹیلی جنس نیٹ ورک کو بڑے پیمانے پر وسعت دی۔ اس دوران عراق، افغانستان، شام، ایران، یمن اور لیبیا میں مختلف کارروائیوں کے لیے امریکی فوجی اور انٹیلی جنس ڈھانچہ قائم اور وسیع کیا گیا، تاہم ایران کے ساتھ حالیہ تنازع نے خطے میں موجود امریکی انفراسٹرکچر کی بعض خامیوں اور کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق فوجی اور انٹیلی جنس حکام کے درمیان اس حوالے سے غیر رسمی بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد ممکنہ جنگ کے بعد خطے میں امریکی موجودگی اور دفاعی حکمت عملی کے لیے مختلف منصوبے تیار کرنا ہے۔ تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں امریکی فورسز کے مستقبل کے حوالے سے تاحال کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔
ذرائع کے مطابق اس وقت مشرق وسطیٰ میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی موجود ہیں، جبکہ خطے میں 2 طیارہ بردار بحری جہاز اور ایک درجن سے زائد دیگر جنگی بحری جہاز بھی تعینات ہیں۔ دوسری جانب واپس بلائے گئے سی آئی اے اہلکاروں کو بھی دوبارہ خطے میں بھیجا جا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس سرگرمیاں بھی جاری رکھی جا رہی ہیں۔
امریکی فوج خطے میں موجود اپنے باقی ماندہ دستوں کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔ اس سلسلے میں حساس فوجی تنصیبات کو ممکنہ ڈرون اور میزائل حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے۔
دو ذرائع کے مطابق بعض حساس تنصیبات کو ڈرون اور میزائل حملوں سے بچانے کے لیے زیرِ زمین منتقل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور ہے۔ پینٹاگون طویل عرصے سے امریکی فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات کو زیرِ زمین منتقل کرنے کے امکانات پر غور کرتا رہا ہے، تاہم ایرانی حملوں کے بعد اس منصوبے پر تیزی سے عملدرآمد کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی فوجی حکام نے آئندہ سال تک مشرق وسطیٰ میں امریکی فورسز کے ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلی کے حوالے سے مختلف لائحہ عمل بھی تیار کرلیے ہیں۔ ان منصوبوں میں خطے میں امریکی فوجی موجودگی کو محدود کرنے، حساس تنصیبات کے تحفظ کو بہتر بنانے اور مستقبل کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز شامل ہیں۔ تاہم ان میں سے کسی منصوبے پر حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسی اور ایران کے ساتھ تنازع کی آئندہ صورتحال سے مشروط ہوگا۔
