آج کافی عرصے بعد قلم اٹھایا ہے۔ کچھ دن پہلے ایکسیڈنٹ پیش آیا، پھر تقریبات کی مصروفیت اور پیپرز کی بھاگ دوڑ نے لکھنے کی مہلت ہی نہ دی۔ آج تھوڑا سا وقت ملا تو دل نے کہا کہ کچھ لکھا جائے، اس لیے لکھنے بیٹھ گئی۔
آج جس موضوع پر بات کرنی ہے، وہ دل کو بہت مضطرب کرتا ہے۔ یہ بات ان تمام معصوم بچیوں کے لیے نہیں جو اپنی زندگی سلیقے اور سمجھ داری سے گزار رہی ہیں، بلکہ ان چند بھٹکی ہوئی روحوں کے لیے ہے جو موبائل کے غلط استعمال کی نذر ہو جاتی ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ یہ بھٹکنا ان کا اپنا قصور نہیں ہوتا۔ یہ شیطان کا کام ہے، جو نہایت مہارت سے دلوں میں غلط سوچیں بو دیتا ہے اور انہیں ایسے سجا کر پیش کرتا ہے کہ وقتی طور پر دل کو سکون سا محسوس ہونے لگتا ہے۔
مگر یہ سکون عارضی ہوتا ہے، جھوٹا ہوتا ہے۔ کچھ عرصے بعد یہی بچیاں اندر ہی اندر بے چین رہنے لگتی ہیں اور رفتہ رفتہ نامحرم کی محبتوں میں ایسی گرفتار ہو جاتی ہیں کہ عقل و شعور دونوں ماند پڑ جاتے ہیں۔ اور پھر وہ سب سے بڑا ظلم کر بیٹھتی ہیں: اپنے والدین کو ٹھکرا دیتی ہیں۔ وہی والدین، جنہوں نے راتوں کو جاگ کر انہیں پالا، جنہوں نے اپنی خواہشات قربان کر کے انہیں پڑھایا لکھایا اور اس قابل بنایا کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں۔ ایک موبائل اسکرین اور ایک ایسے انسان کے لیے، جسے کچھ ہفتوں یا مہینوں کی دوستی سے جانا ہوتا ہے، وہ ماں باپ کے برسوں کے احسانات کو بھلا بیٹھتی ہیں اور اس مختصر سی وابستگی کو "سب کچھ” سمجھ لیتی ہیں، جیسے اس کے سوا دنیا میں کچھ باقی ہی نہیں بچا۔
یہاں ایک سادہ سی بات سمجھنے کی ہے۔ جو والدین بلا کسی غرض، بلا کسی لالچ کے، محض محبت کی بنیاد پر آپ کے تمام اخراجات اٹھاتے ہیں، آپ کو تعلیم دلواتے ہیں، آپ کے ہر خواب کو اپنا خواب بنا لیتے ہیں، کیا یہ ممکن ہے کہ وہی لوگ آپ کے مستقبل کے فیصلے میں آپ کا برا چاہیں؟ جو رشتہ برسوں کی بے لوث قربانی پر قائم ہو، اس پر شک کرنا اور ایک اجنبی کی باتوں پر اعتماد کر لینا، سراسر ناانصافی ہے۔ اسی بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو بچیاں اس دلدل میں پھنس چکی ہیں، کیا ان کے لیے واپسی کا کوئی راستہ نہیں؟ الحمدللہ، ایسا ہرگز نہیں۔ یہ سوچ کہ "اب مجھ سے نہیں ہو سکتا” دراصل شیطان کا ایک اور دھوکہ ہے، تاکہ انسان امید ہی چھوڑ دے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو دل سے نکلنا چاہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے۔ جب انسان کا ایمان پختہ ہو جائے، جب وہ اس حقیقت کو دل سے تسلیم کر لے کہ والدین کی محبت میں کوئی ملاوٹ نہیں، کہ اللہ تعالیٰ کی محبت سب سے بڑھ کر مخلص ہے اور یہ کہ گھر والے ہمیشہ ہمارے حقیقی بھلے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو پھر دل خود بخود ان جھوٹے رشتوں اور جھوٹی تسلیوں سے بیزار ہو جاتا ہے۔
بس ایک قدم اٹھانے کی دیر ہے۔ اللہ سے سچی توبہ، والدین کی طرف واپسی اور اس یقین کے ساتھ آگے بڑھنا کہ جو راستہ اللہ اور ماں باپ نے دکھایا ہے، وہی سب سے محفوظ اور سب سے روشن راستہ ہے۔
