اللّٰہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔ ہم لوگ کوئی بھی کام کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں یہ بات بہت کم ہوتی ہے۔ ہمیں یقین ہونا چاہیے کہ ہم ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے ہیں۔ نماز پڑھتے وقت بھی ہمارے ذہن میں یہ خیال ہونا چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہیں۔ وہ ہمیں دیکھ رہا ہے۔
ہمیں اپنا محاسبہ خود کرنا چاہیے تاکہ ہم دنیا وآخرت میں کامیابی حاصل کر سکیں:
ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لینا ہوگا۔
سب سے پہلے ہمیں ایک ڈائری بنانی ہے اور اس میں دو کالم بنا کر ایک طرف اپنے نیک اعمال لکھنے ہیں اور دوسرے کالم میں گناہوں کے بارے میں لکھنا ہے۔
اس طرح سے روزانہ اپنا معمول بنائیں اور ہم خود اپنی اصلاح کر سکتے ہیں۔
اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کے کندھوں پر دو فرشتے مقرر کیے ہوئے ہیں۔ جنھیں کراما کاتبین کہتے ہیں۔ دونوں فرشتے ہمارے اعمال لکھتے ہیں ـ ایک ہمارے نیک اعمال لکھتے ہیں اور دوسرے گناہوں والے اعمال لکھتے ہیں۔
فرشتے بار بار موقع دیتے ہیں کہ اب یہ انسان گناہ سے رک جائے گا، توبہ کرے اور جب تک وہ انسان گناہ نہیں کرتا: اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان گناہ کرنے کا سوچتا ہے اور وہ گناہ نہیں کرتا: اس کا ارادہ بدل جاتا ہے۔
ہماری نیت خالص ہو گی تو ہم سب کاموں کو انجام دینے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ "حدیث کا مفہوم ہےکہ سارے عمل نیت سے ہیں۔”( بخآری ومسلم)
اللّٰہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے لیے کتنی محنت اور محبت سے ہمارے اعضاء بنائیں اور ہم نے کیا کیا؟
ہم نے اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔
اللّٰہ تعالیٰ نے کائنات میں کتنی ساری نعمتیں عطا کی ہیں۔
ہم نے ان ساری نعمتوں پر شکر ادا کیا؟
نعمتوں پر غور وفکر کیا؟
اللّٰہ تعالیٰ کے احکامات پر ہم نے
عمل کیا؟
نبی کریم محمد ﷺ کی سنتوں پر عمل کیا؟
ہم نے اپنا محاسبہ کرنا ہےاور دوسروں کو بھی تلقین کرنی چاہیے۔
زندگی بہت مختصر ہے۔
کسی کو نہیں معلوم کہ وہ کب اس دنیا سے رخصت ہو جائے تو ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔
آج سے اپنے اعمال کا جائزہ لیںتے ہیں۔
ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ہےکہ ہم خود پر قابو پانے کی کوشش کریں اور گناہوں سے بچنے کے لیے اپنے نفس کے خلاف جہاد کریں۔
