میرا نام ماہ جبین اظہر ہے اور میرا تعلق فیصل آباد سے ہے۔ میں نے آج سے بیس سال پہلے ریاضی میں بی ایس سی کیا تھا۔ بظاہر ریاضی اور اردو ادب دو مختلف دنیائیں ہیں، مگر لفظوں سے میرا رشتہ ہمیشہ سے قائم رہا۔ شاعری سے دلچسپی اور لفظوں کو برتنے کا شوق آہستہ آہستہ تحریر کی صورت اختیار کرتا گیا۔
گورنمنٹ کالج برائے خواتین مدینہ ٹاؤن، جو اب یونیورسٹی کا درجہ پا چکا ہے، کے میگزین ’’سیماب‘‘ سے میں نے اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ جب تک تعلیم کا سلسلہ جاری رہا، لکھنے کا سفر بھی چلتا رہا۔ پھر اکیس سال کی عمر میں شادی کے بعد گھریلو مصروفیات کی وجہ سے مجھے اپنے اس ادبی سفر کو روکنا پڑا اور لکھنے کے شوق کو پسِ پشت ڈالنا پڑا، لیکن ادب اور پڑھنے کا شوق برقرار رہا۔ جب بھی فارغ ہوتی، دینی اور اسلامی کتابیں پڑھتی یا کسی دوست کے پاس کوئی کتاب نظر آ جاتی تو اسے گھر لا کر پڑھنے کا شوق پورا کر لیتی۔
بچوں کی پرورش کے بعد جب وہ اتنے بڑے ہو گئے کہ مجھے کچھ فارغ وقت گزارنے کا موقع ملنے لگا تو میں نے دوبارہ لکھنے کا سوچا۔ دو سال پہلے جب میرے ابو جی کی وفات ہوئی تو ان کے جانے کا دکھ لفظوں میں اتارنے لگی۔ شاید وہی دکھ تھا جس نے میرے اندر سوئے ہوئے لفظوں کو پھر سے جگا دیا۔ اسی سال اللہ تعالیٰ کے گھر کی حاضری نصیب ہوئی۔ واپس آ کر انسانیت کی خدمت کے جذبے کے تحت ایک فلاحی ادارے ’’رائل اسٹوڈنٹس ویلفیئر سوسائٹی‘‘ کو جوائن کر لیا۔
اسی رفاہی ادارے کے ایک ممبر نے میرے لکھنے کے شوق کو دیکھتے ہوئے مجھے قلم و قرطاس انٹرنیشنل کی بانی زوبیہ حسیب سے متعارف کروایا۔ اس پلیٹ فارم پر لکھتے ہوئے مجھے اپنی پہلی انتھالوجی ’’نورِ عزم‘‘ میں افسانہ نگار کی حیثیت سے لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اس کے بعد لکھنے کا جو سلسلہ شروع ہوا، وہ تھم نہ سکا۔ آج میں قلم و قرطاس انٹرنیشنل میں مقابلہ انچارج کے فرائض سرانجام دے رہی ہوں۔
’’نورِ عزم‘‘ کی کامیاب اشاعت کے بعد میری دوسری انتھالوجی ’’فکرِ نو‘‘، جو میرے فلاحی ادارے رائل اسٹوڈنٹس ویلفیئر سوسائٹی کا پروجیکٹ ہے، زیرِ اشاعت ہے۔ میرے لیے یہ سفر صرف کتابوں اور تحریروں تک محدود نہیں، بلکہ یہ میرے اس خواب کی تعبیر بھی ہے جسے میں نے برسوں اپنے دل میں سنبھال کر رکھا۔
میرے لیے ادب محض لفظوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ دل میں اترنے والے احساسات، زندگی کے تجربات اور معاشرے کے مختلف رنگوں کو بیان کرنے کا ایک خوبصورت وسیلہ ہے۔ مجھے سادہ، رواں اور دل کو چھو لینے والا اندازِ تحریر پسند ہے۔ میری کوشش ہوتی ہے کہ جو کچھ لکھوں، اس میں زندگی کی کوئی حقیقت، کسی احساس کی ترجمانی یا کسی سوچ کی بازگشت ہو۔
یہ ادبی سفر میرے لیے اپنی ہی ذات کے ایک نئے پہلو سے ملاقات ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اچھے لفظ صرف پڑھے نہیں جاتے، محسوس بھی کیے جاتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ میری تحریر بھی کسی قاری کے دل کو چھو جائے اور اسے کچھ دیر ٹھہر کر سوچنے پر مجبور کرے۔ یہی میرے لیے ادب کی اصل خوبصورتی ہے اور یہی میرا سادہ سا ادبی تعارف ہے۔
