Baaghi TV

چٹان کا سایہ: 1965ء کے معرکے سے قومی یکجہتی تک،تحریر: نعیم خان

گھڑی کی ٹک ٹک شاید سست پڑ چکی تھی یا پھر وقت نے خود ڈر کے مارے سانس روک لی تھی۔ ستمبر 1965ء کی اس رات برکی کی سرحد پر عجیب سی سائیں سائیں ہو رہی تھی۔ ہولناک اندھیرے میں ہوا یوں دھیمے دھیمے چل رہی تھی جیسے موت خود اپنا لباس بدل کر چاروں طرف چکر کاٹ رہی ہو۔ دوسری جانب ہندوستان کی سرحد پر سرگوشیاں تھیں اور دلوں میں یہ گھمنڈ کہ صبح کا آفتاب طلوع ہونے سے پہلے لاہور کے جمخانہ میں فتح کے جام چھلکیں گے۔

لیکن دشمن اس بھول میں تھا کہ بی آر بی نہر کے اس پار رات کے اس بھیانک اندھیرے میں، وطن کی مٹی پر ایک ایسا سایا خندق میں موجود تھا جس کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی ، اور جس کے سینے میں دل دھڑکتا نہیں ، بلکہ لاوا بن کر ابلتا تھا۔
وہ میجر راجہ عزیز بھٹی تھے!
جب بارود کے دھوئیں میں سانس لینا دو بھر ہو رہا تھا اور موت ہر طرف رقص کر رہی تھی تو ان کا ایک جونیئر سپاہی کانپتی آواز میں بولا "سر! دشمن کی تعداد ہم سے دس گنا زیادہ ہے ، ہم انہیں کیسے روکیں گے؟”
عزیز بھٹی نے دھویں اور آگ کے درمیان اپنے سپاہی کے شانے پر ہاتھ رکھا ان کی آنکھوں میں ایک عجیب سرخ شعلہ لپکا اور وہ گرجدار آواز میں بولے:
"وہ گنتی کے زعم میں آ رہے ہیں، اور ہم رب کے بھروسے پر کھڑے ہیں! انہیں بتانے دو کہ وہ کتنے ٹینک لائے ہیں اور ہم انہیں بتائیں گے کہ ایک سچا مسلمان اپنے وطن کی مٹی پر کیسے جان دیتا ہے۔ جب تک راجہ عزیز بھٹی کے سینے میں دل دھڑک رہا ہے لاہور کی طرف بڑھنے والا ہر قدم میری لاش سے ہو کر گزرے گا۔

اچانک! سناٹے کو چیرتی ہوئی ایک دھماکے کی آواز آئی اور پھر… آگ کا طوفان امڈ پڑا۔ آسمان سرخ ہو گیا ٹینکوں کے شعلے رات کی سیاہی کو چیرنے لگے اور زمین یوں کانپنے لگی جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ دشمن سوچے بیٹھا تھا کہ اس بھیانک حملے کے بعد سامنے صرف لاشیں ملیں گی۔ مگر جب دھواں چھٹا تو نہر کے کنارے وہی سایا اب بھی سینہ تان کر کھڑا تھا۔
ایک دن… دو دن… پانچ دن اور پانچ راتیں!
نہ عزیز بھٹی نے پلک جھپکی، نہ ان کا قدم ایک انچ پیچھے ہٹا۔ کپڑے بارود ، خون اور غبار سے اٹا ہوا تھا ، جسم تھکن سے چکنا چور ہو چکا تھا۔ مگر آنکھوں میں ایک جنون تھا "لاہور پر میرا خون گرے گا ، دشمن کا قدم نہیں!”
وائرلیس پر کمانڈر کی پریشان آواز گونجی ” بھٹی ! تم مسلسل پانچ دن سے آگ میں ہو۔ تم انسان ہو، جاؤ کچھ دیر سو جاؤ… ہم دوسری نفری بھیج رہے ہیں۔”

عزیز بھٹی کے لبوں پر ایک خونچکاں مسکراہٹ ابھری ! انہوں نے وائرلیس کا مائیک سنبھالا اور کہا "مجھے واپس نہ بلائیے ! میں اس مٹی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔ میں لڑتے ہوئے یہی مرنا پسند کروں گا۔”
یہ منظر کسی فلم کا نہیں تھا، یہ ایک سچے عاشقِ وطن کے جنون کی انتہا تھی۔ 12 ستمبر کی وہ منحوس گھڑی آئی۔ عزیز بھٹی ایک ٹیلا پر چڑھ کر دشمن کے ٹینکوں کی نشاندہی کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ سیدھے نشانے پر ہیں مگر جسے شہادت کی طلب ہو اسے موت کا ڈر کیسا؟ ایک زوردار دھماکہ ہوا… دشمن کے ٹینک کا چیرتا ہوا گولا عزیز بھٹی کے سینے میں جا پیوست ہوا۔
وہ زمین پر گرے۔ ان کا گرم خون لاہور کی مٹی میں جذب ہو رہا تھا مگر ان کے گرنے سے پہلے لاہور بچ چکا تھا۔ بی آر بی نہر دشمن کی آخری آرام گاہ بن چکی تھی۔
یہاں کہانی کا ایک حصہ مکمل ہوتا ہے اور ہیرو ہم سے رخصت ہو جاتا ہے… لیکن کہانی کا سب سے خوفناک سسپنس اور ڈرامائی موڑ تو اب شروع ہوتا ہے۔
کیمرہ آج کے پاکستان پر گھومتا ہے۔ چالیس، پچاس سال بعد کے مناظر سامنے آتے ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ اسی شہید کے ملک میں کچھ لوگ شاندار ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر سیاست کی چمکتی ہوئی کرسیوں پر براجمان ہو کر کہتے ہیں "فوجی تو تنخواہ کے لیے لڑتے ہیں! یہ تو ان کی ملازمت ہے!”
ذرا سوچئے! کیا سسپنس ہے اس قوم کی قسمت میں؟ کیا دنیا کی کوئی رقم ، کوئی نوٹ ، کوئی مراعات کسی انسان کو اس بات پر راضی کر سکتی ہے کہ وہ جلتے ہوئے ٹینک کے سامنے جا کر اپنا سینہ کھول دے؟ کیا کوئی ماں اپنی گود کے پالے کو چند ہزار کی نوکری کے لیے بارود کے سپرد کر سکتی ہے؟

یہ کیسا المیہ ہے کہ جن شہیدوں نے اپنے بچوں کو یتیم کر کے ہماری نسلوں کو آزاد کیا آج کچھ مفاد پرست سیاسی ٹھیکیدار اپنے چھوٹے چھوٹے سیاسی فائدوں کے لیے ان کی قربانیوں کا سودا کر رہے ہیں؟
یہ سیاسی دکان داری دراصل دشمن کا وہ آخری حربہ ہے جو وہ 1965ء میں نہ کر سکا۔ دشمن جانتا ہے کہ وہ میدانِ جنگ میں اس قوم کے راجہ عزیز بھٹیوں کو نہیں ہرا سکتا اسی لیے وہ ہمارے درمیان تفریق ، شک اور نفرت کا زہر گھول کر فوج اور عوام کے رشتے کو توڑنا چاہتا ہے۔
اگر آج ہم نے اس سیاسی ڈرامے اور مفاد پرستوں کے بیانیے کو نہ روکا تو کل راجہ عزیز بھٹی کی روح ہم سے سوال کرے گی کہ "ہم نے اپنا خون کس کے لیے بہایا تھا؟”

وقت کا ڈرامائی موڑ یہی ہے۔ اب فیصلہ عوام کو کرنا ہے۔ہمیں اپنے محافظوں کے پیچھے ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر دیوار بن کر کھڑا ہونا ہوگا۔ عوام، فوج اور سیاست دانوں کو ایک مٹھی بننا ہوگا تاکہ دشمن کو معلوم ہو کہ پاکستان کی طرف اٹھنے والی ہر میلی آنکھ کو آج بھی راجہ عزیز بھٹی کا وہی جنون اور جذبہ جواب دے گا۔

More posts