Baaghi TV

ڈریسنگ روم لیکس کی تحقیقات، محمد رضوان کا پریس کانفرنس کرنے کا عندیہ

ڈریسنگ روم لیکس کی تحقیقات کے معاملے پر قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی محمد رضوان نے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد پریس کانفرنس کرنے کا عندیہ دے دیا۔

سماء سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے محمد رضوان نے بتایا کہ وہ ڈریسنگ روم لیکس کے معاملے میں جاری تحقیقات کے ساتھ مکمل تعاون کررہے ہیں اور فی الحال تحقیقات مکمل ہونے کا انتظار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد وہ نیوز کانفرنس بھی کرسکتے ہیں، تاہم انہوں نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) میں اپنی پیشی اور کیس سے متعلق مزید بات کرنے سے گریز کیا۔

یاد رہے کہ 10 ستمبر کو قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی امام الحق اور محمد رضوان نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں پیش ہوئے تھے، جہاں انگلینڈ سیریز کے دوران مبینہ ڈریسنگ روم لیکس اور موبائل فون سے حاصل ہونے والی معلومات کے معاملے پر دونوں کرکٹرز سے تقریباً دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق دونوں کھلاڑیوں کے موبائل فون ان لاک کرنے اور ان کا فرانزک کرانے سے متعلق امور کا تعین کیا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ موبائل فونز میں کن چیزوں کا فرانزک کیا جائے گا، اس کا بھی تعین کیا جارہا ہے، جبکہ کھلاڑیوں کے موبائل فونز کے فرانزک کے عمل میں ایک ہفتے کا وقت لگ سکتا ہے۔

امام الحق اور محمد رضوان نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو جلد تحریری جواب جمع کرانے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ ذرائع کے مطابق موبائل فونز کے فرانزک کے بعد بینک اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال یا دیگر امور سے متعلق کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے نے دونوں کھلاڑیوں سے انگلینڈ میں قیام کے دوران ان کے رابطوں اور ملاقاتوں کے حوالے سے بھی سوالات کیے۔ اس کے علاوہ موبائل فونز پر ہونے والی گفتگو اور ڈریسنگ روم کی حساس معلومات کے مبینہ طور پر لیک ہونے سے متعلق بھی دونوں کرکٹرز سے پوچھ گچھ کی گئی۔

خیال رہے کہ محمد رضوان اور امام الحق ان کرکٹرز میں شامل ہیں جنہیں لارڈز ٹیسٹ کے بعد ٹیم سے ریلیز کردیا گیا تھا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹرز کے موبائل فون متعلقہ اداروں کو بھیج دیے تھے، جبکہ این سی سی آئی اے کھلاڑیوں کے موبائل فون سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ڈریسنگ روم لیکس کے معاملے کی تفتیش کررہا ہے۔

More posts