معروف شاعر اعتبار ساجد لاہور میں انتقال کر گئے ہیں۔
خاندانی ذرائع کے مطابق اعتبار ساجد گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے، اور منگل کی صبح خالق حقیقی سے جا ملے ،ان کی عمر 77 سال تھی،اعتبار ساجد کے انتقال پر ادبی حلقوں میں گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے-
اعتبار ساجد یکم جولائی 1948 کو ملتان میں پیدا ہوئے،اعتبار ساجد اردو کے مقبول غزل گوؤں میں شمار ہوتے تھے، انھوں نے رومانوی شاعری میں اپنے منفرد شعری اسلوب سے قارئین کے دل موہ لیے تھے، اور ہجر و وصال کی کیفیتوں کو اظہار دینے والی رومانی شاعری کے لیے مشہور تھے،وہ ایم اے تک تعلیم حاصل کر کے تدریس کے پیشے سے وابستہ ہو گئے تھے، پہلے گورنمنٹ کالج نوشکی، بلوچستان میں لکچرر رہے، پھر اسلام آباد میں تدریس سے وابستہ ہوئے، شاعری کے علاوہ نثر لکھی،اعتبار ساجد کو جدید اردو شاعری کے اہم اور مقبول شعرا میں شمار کیا جاتا تھا ان کا منفرد اسلوب، نرم لہجہ اور درد سے بھرپور اشعار قارئین کے دلوں میں خاص مقام رکھتے تھے۔
اعتبار ساجد کی تصانیف میں دستک بند کواڑوں پر، آمد، وہی ایک زخم گلاب سا، مجھے کوئی شام ادھاردو و دیگر شامل ہیں انھوں نے بچوں کے لیے بھی لکھا جن میں راجو کی سرگزشت، آدم پور کا راجا، پھول سی اک شہزادی، مٹی کی اشرفیاں وغیرہ شامل ہیں۔
