غزہ میں اسرائیلی فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں ہفتے کی صبح سے مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں میں الجزیرہ کے کیمرہ مین احمد وشاح سمیت کم از کم 10 فلسطینی شہید ہو گئے۔ حملوں میں متعدد شہری زخمی بھی ہوئے جبکہ رہائشی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔
الجزیرہ کے مطابق احمد وشاح غزہ کے وسطی علاقے بوریج پناہ گزین کیمپ میں ایک رہائشی گھر پر ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہوئے۔ اس حملے میں ان کے ساتھ مزید دو افراد بھی جان کی بازی ہار گئے۔ احمد وشاح الجزیرہ مبشر کے لیے خدمات انجام دے رہے تھے اور غزہ کی صورتحال کو دنیا تک پہنچانے میں مصروف تھے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب صرف دو ماہ قبل احمد وشاح کے بھائی اور ساتھی صحافی محمد وشاح بھی ایک الگ اسرائیلی حملے میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ دونوں بھائی غزہ میں صحافتی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
الجزیرہ نے اپنے کیمرہ مین کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صحافیوں کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ادارے نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قانونی اداروں سے مطالبہ کیا کہ صحافیوں پر حملوں کی آزادانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ احمد وشاح حماس کے عسکری ونگ سے وابستہ تھے اور کارروائی کا مقصد حماس کے ایک رہنما کو نشانہ بنانا تھا، جو مبینہ طور پر غزہ میں مالی وسائل کی منتقلی میں ملوث تھا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
الجزیرہ کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران احمد وشاح ادارے کے بارہویں میڈیا کارکن ہیں جو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ میڈیا ادارے نے ایک بار پھر صحافیوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
بوریج کیمپ کے علاوہ غزہ کے دیگر علاقوں میں بھی فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ان حملوں میں ایک ہی خاندان کے چار افراد، جن میں دو بچے بھی شامل تھے، جان کی بازی ہار گئے۔ مسلسل جاری حملوں کے باعث غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے اور امدادی ادارے شہریوں کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
غزہ میں اسرائیلی حملوں میں الجزیرہ کے کیمرہ مین احمد وشاح سمیت 10 فلسطینی شہید
