اسلام آباد: سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی یہ خبریں کہ پاکستان نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ پر پابندی عائد کر دی ہے، سرکاری ذرائع کے مطابق بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔ حکومتی حلقوں نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی باضابطہ فیصلہ یا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں۔
تاہم سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر الجزیرہ کے خلاف خاصا شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ متعدد صارفین نے دعویٰ کیا ہے کہ الجزیرہ کی ایک رپورٹ میں کرنل شہزادہ گلفراز کو شہید کرنے والے عناصر کو "دہشت گرد” کہنے کے بجائے "فائٹرز” (جنگجو) قرار دیا گیا، جس پر پاکستانی عوام کے ایک طبقے نے سخت احتجاج ریکارڈ کرایا، اس قسم کی اصطلاحات دہشت گردی کے واقعات کی سنگینی کو کم کر کے پیش کرتی ہیں اور شہداء کی قربانیوں کی توہین کے مترادف ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری مہم میں بعض صارفین نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کو سفارتی سطح پر ریاستِ قطر کے سامنے اٹھایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے گریز کیا جا سکے۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی میڈیا کو دہشت گردی جیسے حساس معاملات میں محتاط اور ذمہ دارانہ زبان استعمال کرنی چاہیے۔
