Baaghi TV

ٹرمپ کا جنگ جاری رکھنے کا اعلان، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد ایشیا کی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں مندی دیکھی گئی ہے –

جاپان کی نکی 225 میں 1.5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ جنوبی کوریا کی اسٹاک مارکیٹ کوسپی 2.6 فیصد نیچے آ گئی، اسی طرح ہانک کانگ کی ہینگ سینگ انڈیکس میں بھی تقریباً 1 فیصد کمی دیکھی گئی،مارکیٹ ماہرین کے مطابق خطے کی اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ اس وقت سے جاری ہے جب فروری کے آخر میں ایران سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہواایشیا کی معیشتیں توانائی کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتی ہیں، اسی لیے کسی بھی تنازع کے اثرات فوری طور پر مالیاتی منڈیوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قومی خطاب کے دوران وائٹ ہاؤس کے کراس ہال میں اعلیٰ امریکی عسکری اور سیاسی قیادت بھی موجود رہی برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق خطاب کے دوران امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ڈین کین اور پیٹ ہیگسیٹ نے بھی خطاب کو براہ راست سنا اس کے علاوہ وزیر خارجہ مارکو روبیو سمیت ٹرمپ کابینہ کے دیگر ارکان نے بھی اس موقع پر شرکت کی تقریب کے دوران اعلیٰ فوجی حکام کی موجودگی کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی شب قوم سے خطاب میں امریکا کی معیشت، ایران کی صورتحال اور تیل سے متعلق کئی بڑے دعوے کیے، تاہم حقائق جانچنے والے تجزیوں میں ان کے کئی بیانات کو گمراہ کن یا مبالغہ آمیز قرار دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں کہا کہ گزشتہ حکومت میں امریکا ایک مردہ اور تباہ حال ملک تھا جسے انہوں نے دنیا کی سب سے مضبوط معیشت میں تبدیل کردیا اور مہنگائی کا مکمل خاتمہ کردیا تاہم حقائق اس دعوے کی مکمل تائید نہیں کرتے۔ سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے آخری سال 2024 میں امریکی معیشت (جی ڈی پی) میں 2.8 فیصد اضافہ ہوا، جو دنیا کے امیر ممالک میں نمایاں تھا۔ 2021 سے 2023 کے دوران بھی امریکی معیشت مستحکم رہی۔

خطاب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کا مقصد ایران میں حکومت کی تبدیلی نہیں تھا، تاہم جنگ کے نتیجے میں وہاں رجیم چینج ہوچکا اور نئی قیادت پہلے سے زیادہ معتدل ہےحقیقت میں یہ دعویٰ بھی متنازع قرار دیا جارہا ہے۔ جنگ کے آغاز پر 28 فروری کو اسرائیلی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای شہید ہوگئے تھے، جس کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر بنایا گیا، جنہیں زیادہ سخت مؤقف رکھنے والا سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس جنگ کے دوران ایران کی پاسدارانِ انقلاب (ریولوشنری گارڈ) کا اثر و رسوخ مزید بڑھا ہے، جبکہ سویلین حکومت کا کنٹرول محدود بتایا جاتا ہےیہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا اشارہ دیا گیا تھا، تاہم ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت نے حالیہ مظاہروں میں اپنے ہی 45 ہزار شہریوں کو ہلاک کیا، تاہم اس تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

امریکا میں قائم تنظیم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسنی کے مطابق ملک گیر مظاہروں میں تقریباً 7 ہزار سے زائد ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ ہزاروں مزید ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، تاہم ان کی تصدیق ممکن نہیں۔ اسی تنظیم کے مطابق 53 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا ایرانی حکومت نے 21 جنوری کو اپنی رپورٹ میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 113 بتائی تھی اس سے قبل بھی ٹرمپ 32 ہزار ہلاکتوں کا دعویٰ کرچکے ہیں، تاہم اس کے لیے کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

More posts