ایران کے شہید رہبرِ معظّم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو مشہد مقدس میں امام علی رضاؑ کے روضۂ اقدس کے احاطے میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے موقع پر ملک بھر سے آئے ہوئے لاکھوں سوگوار، مذہبی شخصیات اور حکومتی نمائندے موجود تھے، جبکہ مشہد کی فضا غم، عقیدت اور جذبات سے بھرپور مناظر پیش کرتی رہی۔
ایران کے شہید رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو مشہد مقدس میں حضرت امام علی رضاؑ کے روضۂ مبارک کے احاطے میں ایک نجی تقریب کے دوران سپردِ خاک کر دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کئی روز سے جاری قومی سوگ اور آخری رسومات اپنے اختتام کو پہنچ گئیں۔ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق تدفین کی آخری تقریب مکمل طور پر نجی نوعیت کی تھی، جس میں صرف محدود تعداد میں اعلیٰ حکومتی شخصیات، مذہبی رہنماؤں اور مرحوم کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ عوامی نمازِ جنازہ اور آخری دعاؤں کے اختتام کے بعد میڈیا کی براہِ راست کوریج بھی روک دی گئی اور نشریات میں صرف روضۂ امام رضاؑ سے روانہ ہونے والے سوگواروں کے مناظر دکھائے گئے۔
ایرانی سفارتخانے کی جانب سے جاری کی گئی تصویر کے ساتھ ایک جذباتی پیغام بھی جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ "خادمِ رضا، آغوشِ رضا میں چلے گئے”۔ اس پیغام کو ایران سمیت دنیا بھر میں عقیدت مندوں نے بڑے پیمانے پر شیئر کیا اور شہید رہبر کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔اس سے قبل مشہد میں شہید رہبرِ معظّم کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جس کی امامت ان کے بڑے صاحبزادے آیت اللہ سید مصطفیٰ حسینی خامنہ ای نے کرائی۔ نمازِ جنازہ میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور شہید رہبر کی مغفرت، درجات کی بلندی اور ایران کی سلامتی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔
نمازِ جنازہ کے بعد جنازے کا جلوس مشہد کی مختلف شاہراہوں سے گزرا جہاں لاکھوں شہری، علما، طلبہ، خواتین اور نوجوان اپنے محبوب رہبر کو آخری سلام پیش کرنے کے لیے سڑکوں پر موجود تھے۔ متعدد مقامات پر سوگواروں نے آنسوؤں اور دعاؤں کے ساتھ شہید رہبر کو الوداع کہا۔جلوس میں شریک افراد نے قومی پرچم اور مذہبی پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ فضا میں "خون کا انتقام لیا جائے گا” اور دیگر جذباتی نعرے بھی گونجتے رہے۔رپورٹس کے مطابق شہید رہبر کی میت عراق سے خصوصی طیارے کے ذریعے ایران منتقل کی گئی۔ ایرانی فضائیہ کے جنگی طیاروں نے جسدِ خاکی لے جانے والے طیارے کو فضائی حصار میں لے کر مشہد ایئرپورٹ تک پہنچایا، جہاں سرکاری حکام، عسکری قیادت اور عوام کی بڑی تعداد نے استقبال کیا۔
بدھ کے روز شہید رہبر کی میت کو عراق کے مقدس شہروں کربلا اور نجف بھی لے جایا گیا، جہاں حضرت امام حسینؑ، حضرت عباسؑ اور حضرت علیؑ کے روضہ ہائے مقدس پر آخری حاضری دی گئی۔رپورٹس کے مطابق عراق میں ایک کروڑ سے زائد سوگواروں نے مختلف مذہبی اجتماعات، دعائیہ تقریبات اور جلوسوں میں شرکت کرتے ہوئے شہید رہبر کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی خدمات کو یاد کیا۔شہید رہبرِ معظّم کی تدفین کے بعد ایران کے مختلف شہروں میں سوگ کی فضا برقرار ہے۔ مساجد، امام بارگاہوں اور مذہبی مراکز میں قرآن خوانی، فاتحہ خوانی اور دعائیہ تقریبات کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ عوام کی بڑی تعداد مشہد میں امام رضاؑ کے روضۂ مبارک پر حاضری دے کر شہید رہبر کے لیے دعائیں کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ آیت اللہ سید علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے ابتدائی حملوں میں شہید ہوئے تھے۔ انہی حملوں کے بعد ایران اور اسرائیل کے درمیان وسیع جنگ کا آغاز ہوا، جس میں بعد ازاں امریکہ بھی براہِ راست شریک ہوگیا۔
دوسری جانب نئے رہبر مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کی تدفین اور نمازِ جنازہ سمیت کسی بھی عوامی تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق انہیں اسلامی انقلابی گارڈ کور نے سیکیورٹی خدشات اور مبینہ زخمی ہونے کے باعث عوامی طور پر سامنے آنے سے روک دیا تھا۔رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جس حملے میں آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید ہوئے، اسی حملے میں مجتبیٰ خامنہ ای بھی شدید زخمی ہوئے تھے۔ اگرچہ انہوں نے ایرانی میڈیا کے ذریعے متعدد بیانات جاری کیے، تاہم اب تک کسی عوامی تقریب میں ان کی شرکت سامنے نہیں آئی، جس کے باعث ان کی صحت اور تہران میں طاقت کے مراکز سے متعلق قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔
