جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جن میں بندر عباس، بوشہر، چغادک اور کنارک شامل ہیں۔
ایران کے جنوبی صوبے بوشہر میں واقع بوشہر اور قریبی شہر چغادک میں 6 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر کونارک میں بھی تین دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں،ایران کی خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق جنوبی ایران میں بوشہر اور اس سے ملحقہ شہر چغادک کے اطراف دو دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں جبکہ کونارک میں بھی 3 دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں،ایران کے شہر بندرعباس میں بھی دھماکے سنے گئے،بوشہر وہ شہر ہے جہاں ایران کا اہم جوہری بجلی گھر واقع ہے،
بوشہر کے ایک مقامی سیکیورٹی عہدیدار نے بتایا کہ ممکنہ طور پر فضائی دفاعی نظام متحرک ہوا، تاہم یہ بھی زیرِ تفتیش ہے کہ آیا کسی دشمن میزائل یا ڈرون کو نشانہ بنایا گیا یا کسی فوجی تنصیب پر حملہ ہوا۔بعد ازاں ایرانی حکام نے دعویٰ کیا کہ بوشہر کے نواح میں واقع ایک فوجی اڈہ امریکی حملے کا نشانہ بنا، جبکہ دوسری جانب امریکی حکام نے ایسے کسی نئے حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات کے بعد امریکہ نے ایران پر کوئی تازہ فضائی کارروائی نہیں کی۔
اس دوران اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سربراہ نے بھی واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اسرائیلی فوجی قیادت کے مطابق مستقبل میں مزید بڑے فوجی آپریشنز کا امکان موجود ہے اور فضائیہ کو ہر وقت فوری کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران امریکی افواج نے ایران میں سڑکوں، پلوں اور ان بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی عسکری نقل و حرکت اور اسلحے کی ترسیل کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔امریکی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس دوران ایران کی جانب سے داغے گئے بیلسٹک میزائلوں، ڈرونز اور کروز میزائلوں کو بحرین اور دیگر خطوں میں امریکی دفاعی نظام نے کامیابی سے تباہ کیا، جبکہ امریکی فوجی اڈوں کو کوئی بڑا نقصان نہیں پہنچا۔ تاہم میزائلوں کے ملبے سے چند غیر فوجی عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔
