شمالی لندن سے تعلق رکھنے والے 52 سالہ شخص ڈیرن کونوے نے آن لائن فورم کے ارکان کو نشہ آور ادویات کے زیر اثر یا سوئی ہوئی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے پر اکسانے کے مقدمے میں جرم قبول کرلیا۔
برطانوی میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق پولیس نے اکتوبر 2025 میں ایسے آن لائن فورم کا سراغ لگایا تھا، جس کے بعد نیشنل کرائم ایجنسی (NCA) کی قیادت میں تحقیقات کے لیے قومی سطح پر رابطہ گروپ تشکیل دیا گیا۔تحقیقات کے دوران پولیس نے اینفیلڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیرن کونوے کو فورم کے ارکان میں شامل پایا۔ 30 جولائی کو پولیس نے اس کے گھر پر چھاپہ مار کر ڈیجیٹل آلات قبضے میں لیے اور اسے گرفتار کرلیا۔پولیس کے مطابق ضبط کیے گئے آلات سے ملنے والے پیغامات سے معلوم ہوا کہ کونوے فورم کے دیگر ارکان کو نشہ آور ادویات کے زیر اثر یا سوئی ہوئی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پر اکساتا تھا اور بعد ازاں مبینہ طور پر حملوں کی تصاویر چیٹ میں شیئر کرنے کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق کونوے نے چیٹ روم کے ذریعے 10 سے زائد مرتبہ سوئی ہوئی خواتین کو دیکھا۔میٹ پولیس کمانڈر اینڈی ڈے نے کہا کہ کونوے کے اقدامات انتہائی چونکا دینے والے تھے، کیونکہ اس نے بے ہوش، سوئی ہوئی یا مدہوش خواتین کے خلاف جنسی جرائم کی ترغیب دے کر انہیں اپنے ہی گھروں میں سنگین نقصان کے خطرے سے دوچار کیا اور یہ سب مبینہ طور پر اپنی جنسی تسکین کے لیے کیا۔
کونوے نے جمعہ کو لندن کی وُڈ گرین کراؤن کورٹ میں پیش ہوکر جرم قبول کیا۔ اس نے جرم میں معاونت یا دوسروں کو جرم پر اکسانے کے 9 الزامات کے علاوہ جاسوسی (Voyeurism) اور انتہائی فحش تصویر رکھنے کے ایک ایک الزام میں بھی اعترافِ جرم کیا۔عدالت میں کونوے نے سرمئی رنگ کا ٹریک سوٹ پہن رکھا تھا اور نام کی تصدیق اور اعترافِ جرم کے علاوہ کوئی بات نہیں کی۔
برطانوی حکام کے مطابق یہ کیس ایسے آن لائن فورمز کے بڑھتے ہوئے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جہاں مجرمان ایک دوسرے کو نشہ آور اشیا استعمال کرکے بے ہوش متاثرین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے، حملوں کو منظم کرنے اور ان کی تصاویر یا معلومات شیئر کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ریپ کرائسز انگلینڈ اینڈ ویلز کی چیف ایگزیکٹو سیارا برگ مین نے آن لائن فورمز پر منظم اور نشہ آور ادویات کے ذریعے جنسی زیادتی کے واقعات کے پیمانے کو انتہائی تشویشناک قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ واقعات خواتین کے خلاف تشدد اور انہیں محض جنسی شے سمجھنے والی سوچ سے جڑے ہوئے ہیں۔
فرانس میں جیزیل پیلی کوٹ کیس کے بعد بھی یورپ بھر میں ایسے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔ پیلی کوٹ کے سابق شوہر کو اپنی بے ہوش بیوی کے ساتھ زیادتی کے لیے درجنوں اجنبی افراد کو اکسانے کے جرم میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔برطانوی نیشنل کرائم ایجنسی کے مطابق ایسے کئی واقعات میں متاثرہ خواتین کو اس وقت تک معلوم نہیں ہوتا کہ ان کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی ہے جب تک پولیس ان سے رابطہ نہیں کرتی۔کونوے کے اعترافِ جرم کے بعد پولیس ضبط کیے گئے آلات سے ملنے والی ویڈیوز میں نظر آنے والے دیگر افراد اور ممکنہ متاثرین کی شناخت کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔ میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق متاثرین میں سے متعدد کے برطانیہ میں ہونے کا امکان ہے، تاہم کچھ متاثرین بیرون ملک بھی مقیم ہوسکتی ہیں۔
چیف پراسیکیوٹر ٹریسی ایسٹن نے کونوے کے اقدامات کو خواتین کے خلاف ان کے اپنے گھروں میں کیے جانے والے انتہائی گھناؤنے جرائم قرار دیتے ہوئے کہا کہ منظم اور نشہ آور ادویات کے ذریعے جنسی زیادتی ناقابل قبول ہے اور حکام ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پولیس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ کونوے کے اعترافِ جرم سے ان افراد کو حوصلہ ملے گا جو سمجھتے ہیں کہ وہ بھی اسی نوعیت کے جنسی استحصال کا شکار ہوئے ہیں اور وہ سامنے آکر حکام کو آگاہ کریں گے۔
