Baaghi TV

بٹ کوائن، قیمت میں بڑے اضافے کے بعد 3 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

بٹ کوائن کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی نے 80 ہزار ڈالر کی اہم سطح عبور کرتے ہوئے تین ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح حاصل کرلی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایشیائی کاروباری اوقات کے دوران بٹ کوائن تقریباً 80 ہزار 323 ڈالر پر ٹریڈ کررہا تھا، جبکہ کاروباری سیشن کے دوران اس کی قیمت 81 ہزار 237 ڈالر تک بھی پہنچ گئی، جو مئی کے وسط کے بعد بٹ کوائن کی بلند ترین سطح ہے۔

بٹ کوائن کی قیمت میں اگست کے دوران اب تک تقریباً 28 فیصد اضافہ ہوچکا ہے، جس کے باعث یہ نومبر 2024 کے بعد کسی ایک ماہ میں سب سے بڑے اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق بٹ کوائن کی حالیہ تیزی کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں، جن میں امریکی ڈالر کی کمزوری، امریکی بانڈ مارکیٹ سے متعلق حکومتی اقدامات اور کرپٹو کرنسی کے لیے واضح قانونی فریم ورک کی توقعات شامل ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کانگریس پر کرپٹو کرنسی کے شعبے کے لیے واضح قانونی تعریفیں متعین کرنے والے قانون کی منظوری پر زور دینے کے بعد بھی بٹ کوائن کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی بانڈ مارکیٹ میں حکومتی اقدامات اور ڈالر کی قدر میں مزید کمی کے خدشات کے باعث سرمایہ کار سونے اور بٹ کوائن جیسے متبادل اثاثوں کی جانب متوجہ ہورہے ہیں۔

مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق اگر بٹ کوائن 80 ہزار ڈالر کی سطح سے مستقل طور پر اوپر رہنے میں کامیاب رہا تو اس کا اگلا ہدف 95 ہزار ڈالر ہوسکتا ہے، جبکہ اس کے بعد ایک لاکھ ڈالر کی سطح بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔

بٹ کوائن کی حالیہ تیزی کے باعث ایک بار پھر عالمی کرپٹو مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ گئی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق کرپٹو کرنسی کی قیمت میں اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے اور سرمایہ کاروں کو مارکیٹ کے ممکنہ خطرات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

More posts