ملتان کے علاقے بدھلہ سنت میں لڑکے اور لڑکی کی گولی لگی لاشیں ملنے کے واقعے پر پولیس نے مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔
پولیس کے مطابق دونوں لاشیں ملنے کے بعد واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر معاملہ مبینہ طور پر قتل کے بعد خودکشی کا معلوم ہوتا ہے، تاہم پولیس نے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے فی الحال کوئی حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ دونوں افراد کے اہلخانہ اور دیگر ممکنہ گواہوں سے بھی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ تفتیشی ٹیم اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ دونوں کی موت کس صورتحال میں ہوئی اور واقعے کے پیچھے اصل محرک کیا تھا۔
حکام کے مطابق مقتول نوجوان کے موبائل فون سے مبینہ طور پر لڑکی کو بھیجے گئے کچھ پیغامات بھی ملے ہیں، جنہیں تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ پولیس موبائل فون اور دیگر شواہد کی بنیاد پر واقعے کی کڑیاں ملانے کی کوشش کر رہی ہے۔
پولیس نے کہا ہے کہ دوہرے قتل یا خودکشی کے حوالے سے اس مرحلے پر کچھ بھی حتمی طور پر کہنا قبل از وقت ہوگا۔ تمام ممکنہ پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور شواہد سامنے آنے کے بعد ہی دونوں کی موت کی اصل وجہ واضح ہوسکے گی۔
پولیس حکام کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد واقعے کی حقیقت سامنے آنے اور ذمہ دار افراد کا تعین ہونے کی امید ہے۔
ملتان میں لڑکے اور لڑکی کی گولی لگی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع
