بنگلادیش میں 2024 کی عوامی تحریک کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات کے لیے آج ملک بھر میں پولنگ شروع ہو گئی یہ انتخابات ملک کی جمہوریت کے لیے اہم امتحان قرار دیے جا رہے ہیں۔
جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر اور وزارت عظمیٰ کے امیدوار ڈاکٹر شفیق الرحمان نے اپنے حلقے میں ووٹ کاسٹ کر دیا ہے ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ عوام تبدیلی چاہتے ہیں اور آج کا دن بنگلہ دیش کے مستقبل کا تعین کرے گا۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کے بیٹے طارق رحمان بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی ‘بی این پی’ کی جانب سے وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہیں اور ان کے حامی بھی پُرامید دکھائی دے رہے ہیں۔
ملک کے 299 حلقوں میں مقامی وقت کے مطابق صبح 7:30 بجے پولنگ شروع ہوئی جو شام 4:30 بجے تک جاری رہے گی، قومی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں پر امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے اور حکومت بنانے کے لیے 151 نشستوں پر اکثریت حاصل کرنا ضروری ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں جن میں 6 کروڑ 48 لاکھ مرد، 6 کروڑ 29 لاکھ خواتین اور 1,232 خواجہ سرا ووٹرز شامل ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں 42,779 پولنگ اسٹیشن قائم کیے ہیں، جن میں سے 21,506 کو حساس قرار دے کر خصوصی سکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔ 9 لاکھ سکیورٹی اہلکار انتخابی ڈیوٹی پر تعینات ہیں جبکہ فوج بھی اہم مقامات پر موجود ہے ووٹنگ کا عمل جمعرات بھر جاری رہے گا جبکہ نتائج کا اعلان جمعہ کو متوقع ہے۔
یہ انتخابات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہو رہے ہیں، جو 2024 میں کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے احتجاج کے بعد مستعفی ہو کر بھارت چلی گئی تھیں ان کی جماعت کو ان انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔
بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزا دے ہیں اور 17 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد گزشتہ دسمبر میں وطن واپس آئے، انہوں نے جمہوری اداروں کی بحالی، قانون کی حکمرانی اور معیشت کی بہتر ی کا وعدہ کیا ہے۔
دوسری جانب جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد بھی میدان میں ہے، یہ جماعت شیخ حسینہ کے دور میں پابندی کا شکار رہی، تاہم حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد اس کا اثر و رسوخ بڑھا ہے۔ بعض حلقوں، خصوصاً خواتین اور اقلیتوں میں اس اتحاد کی ممکنہ کامیابی پر تشویش پائی جاتی ہے۔
انتخابات عبوری حکومت کے تحت ہو رہے ہیں جس کی قیادت نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر محمد یونس کر رہے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ شفاف اور غیر جانب دارانہ انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنایا جائے گا یورپی یونین اور دولتِ مشترکہ سمیت تقریباً 500 بین الاقوامی مبصرین اور صحافی انتخابی عمل کی نگرانی کر رہے ہیں۔
بنگلادیش کی پارلیمنٹ 350 نشستوں پر مشتمل ہے، جن میں سے 300 نشستوں پر براہِ راست انتخاب ہوتا ہے جبکہ 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔ اس بار تقریباً 50 لاکھ نئے ووٹرز بھی پہلی مرتبہ ووٹ ڈالیں گے انتخابات کے ساتھ ساتھ سیاسی اصلاحات سے متعلق ایک ریفرنڈم بھی ہو رہا ہے، جس میں وزیر اعظم کی مدت کی حد مقرر کرنے اور اختیارات کے توازن کو بہتر بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ انتخابات بنگلادیش کی داخلی سیاست اور استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
