وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ہم حملہ کرنے والوں اور ان کے آقاؤں کو معاف نہیں کریں گے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ میں اعلیٰ سطح کے اجلاس کے بعد مشترکہ بیان میں کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں 12 مقامات پر حملے کرنے والے تمام 92 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ حملوں میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آئے ہیں۔
وزیرداخلہ نے کہا کہ دہشت گردوں نے پلان کر کے حملے کیے جن کو ناکام بنادیا گیا اور آپریشن مکمل ہوگیا جس میں موجود تمام دہشت گردوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر مارا گیا دو روز میں 108 دہشت گرد مارے جاچکے ہیں آج کے حملوں میں پولیس، ایف سی اور آرمی نے دہشت گردوں کا مقابلہ کر کے داستان رقم کردی۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے منصوبہ بندی سے حملے کیے جنہیں ناکام بنا دیا گیا، وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی بہادر آدمی ہیں جو اس صورت حال کا سامنا کررہے ہیں، چند اور سرفراز بگٹی ہوتے تو ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ ہو جاتا ہم حملہ کرنے والوں اور ان کے آقاؤں کو معاف نہیں کریں گے۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کیا کہ آپریشن مکمل ہوگیا تاہم حتمی تفصیلات اب آنا باقی ہیں، گوادر میں لیبر کالونی میں بلوچ شہریوں کو قتل کیا گیا جسکی شدید مذ مت کرتے ہیں، فورسز نے بھرپور اور بہترین ردعمل دے کر فتنہ الہندوستان کا مورال مزید کم کردیا کسی کو نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کا تعاقب کر کے ٹھکا نے لگایا جائے گا،لیکن ایسے 10 حملے بھی دہشتگردی کے خلاف ہمارا عزم کمزور نہیں کر سکتے ہماری فورسز نے دہشتگردوں کو بھرپور اور بروقت جواب دیا، دہشت گردوں کے خلاف آپریشن قریباً مکمل ہو چکا ہے، اور اب صرف تفصیلات آنا باقی ہیں، مصروفیات ترک کرکے کوئٹہ پہنچنے پر وزیر داخلہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں-
واضح رہے کہ فتنہ الہندوستان کے مسلح شرپسندوں نے 12 مقامات پر حملے کیے جس پر فورسز نے ردعمل دیتے ہوئے 67 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گوادر کی لیبر کالونی میں دہشت گردوں نے 11 بلوچ افراد کو قتل کیا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
