Baaghi TV

سانحہ پمز پر سول سوسائٹی کا احتجاج، ذمہ داروں کے احتساب کا مطالبہ

اسلام آباد: پمز کے مدر اینڈ چائلڈ اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی ہلاکت پر سول سوسائٹی نے اسپتال کے باہر احتجاج کیا اور شمعیں روشن کرکے متاثرہ خاندانوں سے اظہار یکجہتی کیا۔

چائلڈ رائٹس موومنٹ کے چیئرمین اشتیاق گیلانی کی زیر اہتمام احتجاج میں سول سوسائٹی کے افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ سانحے کے ذمہ داروں کا تعین کرکے شفاف تحقیقات کی جائیں اور غفلت کے مرتکب افراد کا احتساب کیا جائے۔

احتجاج کے موقع پر پمز کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور مظاہرین کو اسپتال میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ انسانی حقوق کی کارکن مشعال حسین ملک کو بھی احتجاج میں شرکت کے لیے پہنچنے پر اسپتال کے گیٹ پر روک دیا گیا۔

پیپلز پارٹی اسلام آباد چیپٹر کی نائب صدر سعدیہ حیات خان نے کہا کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر احتجاج میں شریک ہوئی ہیں، اس لیے ان کی شرکت کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 14 نومولود بچوں کی ہلاکت اسپتال کے طبی نظام کے ساتھ انتظامی اور سیکیورٹی نظام کی کارکردگی پر بھی سنگین سوالات اٹھاتی ہے۔

سعدیہ حیات خان نے کہا کہ انکیوبیٹرز میں محفوظ رہنے والے بچوں کو قبروں میں پہنچا دیا گیا، والدین بالخصوص ماؤں کو ناقابلِ بیان ذہنی اور جسمانی صدمے سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق اس سانحے کو ذمہ داروں کے احتساب کے بغیر فراموش نہیں کیا جانا چاہیے۔

سول سوسائٹی کے رکن فرہاد جرال نے بھی پمز انتظامیہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف وفاقی سیکریٹری صحت کو معطل کرنا کافی نہیں، بلکہ اسپتال کے انتظامی سربراہ اور دیگر ذمہ دار افراد کا بھی تعین کرکے کارروائی کی جائے۔

انہوں نے پارلیمانی قائمہ کمیٹیوں سے مطالبہ کیا کہ سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی رسپانس اور انتظامی نظام کی مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے۔

سانحے کے بعد پمز میں فائر سیفٹی انتظامات، ہنگامی اخراج کے راستوں، ایمرجنسی رسپانس اور طبی و سیکیورٹی عملے کی موجودگی سے متعلق بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ سول سوسائٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات سمیت تمام پہلوؤں کی جامع اور شفاف تحقیقات کرکے حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں۔

More posts