بھارتی فلم انڈسٹری کے معروف اداکار جوزف وجےالمعروف وجے تھلاپتی نے بھارتی ریاست تامل ناڈو کے نئے وزیراعلیٰ کے طور پر حلف اٹھانے کے فوراً بعد عوامی فلاح کے متعدد بڑے اعلانات کر دیے۔ انہوں نے گھریلو صارفین کے لیے 200 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کرنے کا اعلان کیا، جبکہ خواتین کے تحفظ کے لیے خصوصی فورس کے قیام اور انسدادِ منشیات سے متعلق حکم نامے پر بھی دستخط کیے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وجے کی جماعت تملگا ویٹری کژگم نے اتحادی جماعتوں کے تعاون سے ریاستی اسمبلی میں اکثریت حاصل کر لی ہے۔ 234 رکنی اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے درکار نشستوں سے کم سیٹیں لینے کے باوجود کانگریس، بائیں بازو کی جماعتوں، وی سی کے اور انڈین یونین مسلم لیگ کی حمایت نے وجے کو واضح اکثریت دلا دی۔حلف برداری کی پروقار تقریب منعقد ہوئی جہاں سیاسی و سماجی شخصیات کے علاوہ وجے کے ہزاروں مداح بھی موجود تھے۔ تقریب کے بعد اپنے پہلے عوامی خطاب میں وجے تھلاپتی نے کہا کہ “حقیقی سیکولرازم اور سماجی انصاف کے لیے حکومت کے نئے دور کا آغاز ہو چکا ہے۔”
وجے نے خطاب کے دوران اپنی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا، “میں کسی شاہی خاندان سے تعلق نہیں رکھتا، میں نے غربت اور بھوک کو قریب سے دیکھا ہے۔ لوگ میرا مذاق اڑاتے رہے مگر عوام نے مجھے عزت دی، میں آپ ہی کی طرح ایک عام انسان ہوں۔”
رپورٹس کے مطابق وجے نے گورنر راجند وشواناتھ سے ملاقات کے بعد حکومت سازی کی دعوت قبول کی اور انہیں 13 مئی تک اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کامیابی اس لیے بھی غیر معمولی قرار دی جا رہی ہے کیونکہ وجے نے اپنی جماعت صرف فروری 2024 میں قائم کی تھی اور پہلے ہی انتخاب میں روایتی سیاسی جماعتوں کو سخت چیلنج دیتے ہوئے ریاست کی سیاست میں بڑی تبدیلی لے آئے۔یاد رہے کہ راہول گاندھی اور وجے تھلاپتی کے درمیان تعلقات کئی برس پرانے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی پہلی ملاقات 2009 میں نئی دہلی میں ہوئی تھی جہاں راہُل گاندھی نے وجے کو یوتھ کانگریس میں شمولیت کی پیشکش بھی کی تھی۔
