کراچی کی ایک عدالت نے 23 سال قبل پیش آنے والے ٹریفک حادثے سے متعلق اہم فیصلہ سناتے ہوئے جاں بحق شہری کے اہلخانہ کو 6 کروڑ 6 لاکھ 61 ہزار روپے سے زائد رقم ادا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ رقم اصل معاوضے کے ساتھ گزشتہ 23 برس کے دوران بننے والے مارک اپ پر مشتمل ہے۔
تفصیلات کے مطابق سینئر سول جج ساؤتھ کراچی نے شارع فیصل نرسری کے قریب پیش آنے والے حادثے کے مقدمے کا فیصلہ سنایا۔ عدالت نے قرار دیا کہ جاں بحق شہری نور حمید کے ورثا کو انصاف فراہم کرنے کے لیے متعلقہ فریق مقررہ رقم ادا کرے۔
درخواست گزار کے وکیل فرخ ایڈووکیٹ کے مطابق حادثہ کئی برس قبل پیش آیا تھا، جس کے بعد متاثرہ خاندان نے قانونی چارہ جوئی کا آغاز کیا۔ مقدمہ تھانہ فیروز آباد میں درج کیا گیا تھا اور مختلف عدالتی مراحل سے گزرتے ہوئے بالآخر اس کا فیصلہ سامنے آیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ متاثرہ خاندان کو صرف اصل معاوضہ ہی نہیں بلکہ طویل عرصے تک رقم کی عدم ادائیگی کے باعث بننے والا مارک اپ بھی دیا جائے گا، تاکہ انہیں انصاف فراہم کیا جا سکے۔ فیصلے کے مطابق مجموعی طور پر 6 کروڑ 6 لاکھ 61 ہزار روپے ادا کیے جائیں گے۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ایسے مقدمات کے لیے ایک اہم نظیر بن سکتا ہے، جہاں متاثرہ خاندان برسوں تک انصاف کے منتظر رہتے ہیں۔ ان کے مطابق عدالت نے تاخیر کے باعث ہونے والے مالی نقصان کو بھی مدنظر رکھا، جس سے مستقبل میں ایسے مقدمات کے فیصلوں پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
متاثرہ خاندان نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ حکم پر جلد عمل درآمد ہوگا اور انہیں طویل قانونی جدوجہد کے بعد انصاف مل سکے گا۔
یہ فیصلہ اس بات کی بھی یاد دہانی ہے کہ طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود عدالتیں ایسے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور متاثرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی نظام اپنا کردار ادا کرتا ہے۔
23 سال پرانے ٹریفک حادثے میں جاں بحق شہری کے اہلخانہ کو 6 کروڑ معاوضہ دینے کا حکم
