Baaghi TV

مودی سرکار میں سوال کرنا بھی جرم، مسلمان خواتین صحافیوں پر دہلی پولیس کا تشدد

نئی دہلی میں دو مسلمان خواتین صحافیوں نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ اور دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے سوال کرنے پر انہیں ساکیت تھانے لے جایا گیا، جہاں پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا، جبکہ صحافیوں کے مطابق ان کی مسلم شناخت سامنے آنے کے بعد تشدد میں مزید شدت آگئی۔

فری لانس صحافی شاہین خان اور ان کی ساتھی نفیسہ خان مقبول یوٹیوب نیوز نیٹ ورک ’فور پی ایم نیوز نیٹ ورک‘ کی جانب سے دہلی کی وزیراعلیٰ ریکھا گپتا اور وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ کی شرکت والے ایک پروگرام کی کوریج کے لیے موجود تھیں۔

شاہین خان نے ساکیت پولیس اسٹیشن سے جاری کی گئی ویڈیو رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ دونوں صحافیوں کو صرف وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ سے سوال کرنے پر پولیس اسٹیشن لایا گیا۔ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے پہلے ان کا نام پوچھا اور جب انہوں نے اپنا نام ’’شاہین خان‘‘ بتایا تو مبینہ طور پر ان کی مذہبی شناخت کو بنیاد بنا کر ان پر تشدد کیا گیا۔

شاہین خان نے ویڈیو میں اپنے بازو پر مبینہ تشدد کے نشانات بھی دکھائے، جبکہ ان کی ساتھی نفیسہ خان کو شدید تکلیف میں دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں نفیسہ خان کو پولیس اسٹیشن سے دیگر افراد کے سہارے باہر لے جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

شاہین خان نے الزام عائد کیا کہ دونوں صحافیوں کو پولیس اسٹیشن میں ذہنی دباؤ اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق پولیس اہلکاروں نے انہیں تھپڑ مارے اور لاٹھیوں سے بھی مبینہ طور پر تشدد کیا۔

فور پی ایم نیوز نیٹ ورک کے مدیر اعلیٰ سنجے شرما نے کہا کہ ان کا ادارہ حالیہ دنوں میں دہلی حکومت اور وزیراعلیٰ ریکھا گپتا سے متعلق اہم سوالات اٹھانے اور رپورٹس شائع کرنے میں مصروف تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا دونوں صحافیوں کے خلاف مبینہ کارروائی کا تعلق ان رپورٹس سے بھی ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سے سوال کرنا کب سے جرم بن گیا اور کیا کسی صحافی کے نام میں ’’خان‘‘ ہونا اس کے خلاف تشدد کی وجہ بن سکتا ہے۔

دوسری جانب ڈیجیٹل پبلشرز اینڈ نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن سمیت مختلف صحافتی تنظیموں نے دونوں خواتین صحافیوں پر مبینہ پولیس تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔ تنظیموں نے واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات، پولیس اسٹیشن کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

پریس کلب آف انڈیا، انڈین ویمن پریس کور، دہلی یونین آف جرنلسٹس، پریس ایسوسی ایشن اور کیرالہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس نے مشترکہ بیان میں کہا کہ صحافیوں کے مطابق دونوں خواتین کو سوال کرنے پر پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا اور ان کی مذہبی شناخت معلوم ہونے کے بعد تشدد میں مزید شدت آگئی۔

صحافتی تنظیموں نے دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔ تنظیموں نے پریس کونسل آف انڈیا سے بھی واقعے کا نوٹس لینے اور صحافیوں کی آزادی کو دبانے کی مبینہ کوششوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

ادھر کانگریس اور عام آدمی پارٹی کے رہنما سومناتھ بھارتی سمیت متعدد اپوزیشن رہنماؤں نے بھی مبینہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

More posts