مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث کئی بینکوں نے خلیجی ممالک میں اپنے دفاتر خالی اور ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ایران میں بینک کی عمارت پر حملے کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں امریکا اور اسرائیل سے وابستہ بینکوں اور مالیاتی اداروں کو بھی نشانہ بنانے کا اعلان کر رکھا ہے،خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکا کے ’سٹی بینک‘ نے متحدہ عرب امارات میں اپنی بیشتر برانچز اور مالیاتی مراکز عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ بینک کے مطابق یہ اقدام احتیاطی تدابیر کے طور پر کیا گیا ہے۔
بینک کے مطابق دبئی کے مرکزی علاقے میں واقع مال آف دی ایمریٹس میں موجود سٹی بینک کی شاخ اس فیصلے سے مستثنیٰ ہوگی اور معمول کے مطا بق کام جاری رکھے گی اور متاثرہ تمام شاخوں کو 16 مارچ سے دوبارہ کھولنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے بین الاقوامی بینک ’ایچ ایس بی سی‘ نے قطر میں اپنی تمام شاخیں تاحکمِ ثانی بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔
حملے ہوئے تو سخت جواب دیا جائے گا،انڈیا کی ایران کو دھمکی
بینک کی جانب سے صارفین کو بھیجے گئے ایک پیغام میں بتایا گیا کہ یہ فیصلہ حفاظتی اقدامات کے تحت کیا گیا ہے اسی طرح اسٹینڈرڈ چارٹرڈ نے بھی دبئی میں اپنے ملازمین کو ہدایت دی ہے کہ وہ موجودہ صورت حال کے پیش نظر گھر سے کام کریں، اس حوا لے سے ملازمین کو باضابطہ ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق وال اسٹریٹ کے بڑے مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس نے بھی دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر میں موجود اپنے عملے کو ہدایات جاری کرتے ہوئے گھر سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔
گزشتہ دنوں امریکی اور اسرائیلی حملوں میں تہران میں واقع بینک سپاہ بینک کی عمارت کو نشانہ بنایا گیا تھا منگل کے روز بیروت میں حزب اللہ سے منسلک مالیاتی ادارے ’القرض الحسن‘ کی ایک عمارت بھی حملے کا نشانہ بنی تھی ان حملوں کے بعد بدھ کے روز ایران نے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اور اسرائیلی بینکوں پر حملوں کا اعلان کیا تھا۔
امریکی بحریہ کا آبنائے ہرمز میں جہازوں کو تحفظ دینے سے صاف انکار
ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ گوگل، مائیکروسافٹ، آئی بی ایم، این ویڈیا اور اوریکل جیسی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی ایرانی حملوں کے اہداف میں شامل ہو سکتی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق خطے میں کشیدگی بڑھنے کے باعث سرمایہ کاروں میں بھی تشویش پائی جا رہی ہے اور امریکی بینکوں کے حصص میں کمی دیکھی گئی ہےایرانی قیادت نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں عدم استحکام کے باعث تیل کی قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ ہو سکتا ہے پاسدارانِ انقلاب نے بھی اعلان کیا ہے کہ موجودہ صورت حال کے باعث تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملے جاری رہے تو مشرقِ وسطیٰ میں موجود تمام اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے عالمی توانائی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے جنرل ابراہیم جباری نے کہا ہے کہ اگر ایران کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا گیا تو تہران بھرپور ردعمل دے گا ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق انہوں نے واضح کیا کہ اگر دشمن نے ہمارے مرکزی مقامات پر حملہ کیا تو ہم خطے کے تمام اقتصادی مراکز کو ہدف بنائیں گے۔
جنرل ابراہیم جباری کا مزید کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز بند کر دی گئی ہے اور موجودہ صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ان کے مطابق اس وقت عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے اور امکان ہے کہ یہ 200 ڈالر تک بھی پہنچ سکتی ہے۔
ادھر عالمی مارکیٹ میں بھی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت 85 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جو حالیہ عرصے میں بلند ترین سطحوں میں سے ایک ہےماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف عالمی توانائی مارکیٹ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
