اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک لبیک پاکستان کے انٹرا پارٹی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔
چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں سپیشل سیکرٹری پولیٹیکل فنانس نے بتایا کہ ٹی ایل پی کی جانب سے شوکاز نوٹس کا تحریری جواب موصول ہو چکا ہے، جس پر بلال قادری کے دستخط موجود ہیں اور انہیں پارٹی کا مستقل الیکشن کمشنر ظاہر کیا گیا ہے۔ حکام نے مزید بتایا کہ دسمبر 2025 میں پارٹی عہدیداروں کی مدت ختم ہو چکی تھی، جبکہ تحریری جواب میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ دفاتر سیل ہونے کے باعث متعدد کوششوں کے باوجود انٹرا پارٹی انتخابات منعقد نہیں ہو سکے۔سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے ٹی ایل پی کے وکیل کے وکالت نامے اور نمائندگی کے اختیار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ فی الحال انہیں بطور وکیل نہیں سنا جا رہا اور اگر اختیار ثابت نہ ہوا تو حکم میں انہیں غیر متعلقہ شخص قرار دیا جائے گا۔ چیف الیکشن کمشنر نے یاد دلایا کہ گزشتہ سماعت میں فوکل پرسن عامر شہزاد کا حقِ دعویٰ مسترد کیا جا چکا ہے۔ اس موقع پر وکیل نے بتایا کہ وہ چیئرمین الیکشن اتھارٹی بلال قادری کی نمائندگی کر رہے ہیں، جبکہ پارٹی کے امیر سے ان کا رابطہ نہیں ہے، اگرچہ امیر موجود ہیں۔
ٹی ایل پی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ چیئرمین الیکشن اتھارٹی بلال قادری کو اکتوبر 2025 میں گرفتار کر لیا گیا تھا اور جون 2026 میں ضمانت پر رہائی کے بعد انہوں نے انٹرا پارٹی انتخابات کرائے۔ اس پر چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن پہلے ہی انتخابات کرانے کے لیے توسیع کی درخواست مسترد کر چکا تھا، کیا اس فیصلے کو کسی عدالتی فورم پر چیلنج کیا گیا تھا، اور کیا انتخابات سے 15 روز قبل الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا گیا تھا؟ وکیل نے جواب دیا کہ کمیشن کو پیشگی اطلاع نہیں دی گئی، تاہم موجودہ حالات کے پیش نظر مکمل انصاف کیا جائے اور انٹرا پارٹی انتخابات کو تسلیم کیا جائے۔ سماعت مکمل ہونے پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
